سال 2024ء انگلش چینل سے سمندری راستے غیرقانونی طور پر 37 ہزار تارکین وطن برطانیہ پہنچے

سال 2024ء کے دوران انگلش چینل کے سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد تقریباﹰ سینتیس ہزار رہی۔ یہ تعداد 2023ء کے مقابلے میں قریب ایک چوتھائی زیادہ تھی۔
برطانوی دارالحکومت لندن سے سال 2025ء کے پہلے روز بدھ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ اعداد و شمار لندن حکومت نے آج ہی جاری کیے ہیں۔

انگلش چینل یا رودبار انگلستان ایک ایسا تنگ سمندری علاقہ ہے، جس کے ایک طرف برطانیہ ہے اور دوسری طرف یورپی یونین کے رکن نیدرلینڈز، بیلجیم اور فرانس جیسے ممالک۔ اس سمندری خطے کو چھوٹی چھوٹی غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے عبور کرنے اور یوں برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی بڑی تعداد اپنے اس خطرناک سفر کا آغاز زیادہ تر فرانسیسی ساحلی علاقوں سے کرتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران سمندری راستے سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کافی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور حکومت اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے اب تک کئی اقدامات بھی کر چکی ہے۔ اس کے باوجود پناہ کے متلاشی تارکین وطن کی طرف سے انگلش چینل میں سفر کا رجحان مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔

لندن میں وزارت داخلہ کے جاری کردہ سال 2024ء کے لیے عبوری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس رودبار انگلستان کو کشتیوں کے ذریعے پار کر کے برطانیہ پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد 36,816 رہی جبکہ اس سے ایک سال پہلے یہ تعداد 29,437 رہی تھی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ 2024ء میں 2023ء کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تارکین وطن انگلش چینل پار کر کے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے۔

گزشتہ برس کی اور اس سے ایک سال پہلے کی سالانہ تعداد 2022ء کے مقابلے میں اس لیے کم رہی تھیں کہ تب تارکین وطن کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں برطانیہ آمد کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گیا تھا۔ 2022ء میں یہ تعداد 45,774 رہی تھی۔
گزشتہ برس تارکین وطن کی براستہ سمندر برطانیہ آمد میں 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے موجودہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسٹارمر نے پچھلے سال جولائی میں اقتدار میں آنے کے بعد عہد کیا تھا کہ وہ انگلش چینل کے راستے آنے والے تارکین وطن کی تعداد ہر حال میں بہت کم کر دیں گے۔
کیئر اسٹارمر کی حکومت کے لیے اس مسئلے پر قابو پانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم بننے کے فوری بعد اپنی پیش رو ٹوری حکومت کے اس متنازعہ منصوبے کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت بےقاعدہ طریقوں سے برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کو افریقی ملک روانڈا بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
موجودہ برطانوی حکومت چند دیگر ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے بھی کر چکی ہے، جن کا مقصد انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایسے جرائم پیشہ گروہوں کا پتہ چلا کر ان کو ختم کرنا ہے، جو بڑی بڑی رقوم لے کر ہر سال ہزارہا انسانوں کو چھوٹی کشتیوں میں بٹھا کر انگلش چینل پار کرنے کے سفر پر بھیجتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں