فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے اعلان کیا ہے کہ شمالی عراق کے خودمختار علاقے عراقی کردستان میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں فرانسیسی فوج کے ایک سینئر افسر ہلاک جبکہ متعدد فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے افسر کی شناخت ارنو فریون (Arnaud Frion) کے نام سے ہوئی ہے، جو فرانسیسی فوج میں چیف وارنٹ آفیسر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
فرانسیسی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ واقعہ شمالی عراق کے علاقے مخمور کے قریب ایک فوجی اڈے پر پیش آیا جہاں فرانسیسی فوجی انسداد دہشت گردی کے عالمی اتحاد کے تحت مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کر رہے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم چھ سے سات فرانسیسی فوجی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

صدر Emmanuel Macron نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “ناقابلِ قبول” قرار دیا اور کہا کہ فرانس کی افواج خطے میں دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ہماری افواج پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔ قوم اپنے بہادر سپاہیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔”
صدر میکرون نے ہلاک ہونے والے افسر کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے زخمی فوجیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
حملے کی تحقیقات شروع
مقامی حکام کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا اور اس کا ہدف وہ فوجی اڈہ تھا جہاں فرانسیسی فوجی اور مقامی فورسز مشترکہ طور پر موجود تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث حالیہ مہینوں میں عراق اور شام میں غیر ملکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فرانس سمیت کئی مغربی ممالک کی افواج عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے تحت دہشت گرد تنظیم Islamic State کے خلاف کارروائیوں اور تربیتی مشن میں شریک ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے باوجود عراق میں جاری انسداد دہشت گردی مشن جاری رہے گا اور خطے میں استحکام کے لیے تعاون برقرار رکھا جائے گا۔