اٹلی میں زرعی غلامی کا نظام: پاکستانی اور بھارتی مزدور سب سے زیادہ کیوں متاثر؟

اٹلی، جو یورپ میں زرعی پیداوار کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ایک ایسے پوشیدہ مگر سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے جس میں ہزاروں تارکینِ وطن مزدور غیر انسانی حالات، کم اجرت اور شدید استحصال کا شکار ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مزدور پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔
اس پورے نظام کو اٹلی میں “Caporalato” کہا جاتا ہے، یعنی ایک غیر قانونی لیبر نیٹ ورک جس میں درمیانی ایجنٹ مزدوروں کی بھرتی سے لے کر ان کی اجرت اور رہائش تک ہر چیز پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ یہی نظام اٹلی کی زرعی معیشت کے ایک بڑے حصے کے پیچھے ایک تاریک حقیقت کے طور پر موجود ہے۔
Caporalato: جدید دور کی غیر مرئی غلامی
Caporalato دراصل ایک ایسا نیٹ ورک ہے جس میں “کاپورالی” کہلانے والے ایجنٹ مزدور فراہم کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کی اجرت کا بڑا حصہ خود رکھ لیتے ہیں۔ مزدوروں کو اکثر 10 سے 12 گھنٹے روزانہ سخت مشقت کرائی جاتی ہے جبکہ انہیں نہ مناسب اجرت ملتی ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔
جنوبی اٹلی کے علاقے جیسے کالابریا، سسلی، پولیا اور کیمپانیا اس نظام کا سب سے بڑا مرکز سمجھے جاتے ہیں، جہاں زرعی پیداوار خصوصاً ٹماٹر، انگور اور زیتون کی کاشت میں ہزاروں غیر دستاویزی مزدور کام کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بحران میں پاکستانی اور بھارتی مزدوروں کی زیادہ شمولیت کی کئی بنیادی وجوہات ہیں:
سب سے پہلی وجہ ان کی کمزور قانونی حیثیت ہے۔ بہت سے مزدور عارضی ویزوں یا غیر مکمل دستاویزات کے ساتھ یورپ پہنچتے ہیں، اور بعد میں غیر قانونی حیثیت میں چلے جاتے ہیں، جس کے باعث وہ کسی بھی قانونی تحفظ سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ بھاری قرض اور ایجنٹ سسٹم ہے۔ پاکستان اور بھارت میں ایجنٹس کے ذریعے یورپ آنے پر مزدوروں پر ہزاروں یورو کا قرض چڑھ جاتا ہے، جس کی ادائیگی کے لیے وہ کسی بھی قسم کے کام پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
تیسری وجہ زبان اور معلومات کی کمی ہے، جس کے باعث مزدور نہ اپنے معاہدے صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے حقوق کے لیے قانونی مدد حاصل کر پاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بعض صورتوں میں انہی برادریوں سے تعلق رکھنے والے مقامی ایجنٹ بھی مزدوروں کے استحصال میں شامل ہوتے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
گزشتہ سولہ برسوں کے دوران اٹلی میں زرعی مزدوروں کے حالات میں بہتری کے بجائے پیچیدگی بڑھی ہے۔
2016 میں اٹلی نے Caporalato کے خلاف سخت قانون سازی کی، تاہم اس کے باوجود استحصال مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔
2020 سے 2022 کے دوران کورونا وبا کے دوران زرعی شعبے کو چلانے کے لیے غیر قانونی مزدوروں پر انحصار مزید بڑھ گیا، جس سے استحصال کی شرح میں اضافہ ہوا۔
2023 اور 2024 میں متعدد المناک واقعات سامنے آئے، جن میں ایک بھارتی مزدور کی زرعی مشین حادثے کے بعد مناسب علاج نہ ملنے سے موت نے پورے ملک میں احتجاج کو جنم دیا۔
2025 میں مختلف علاقوں میں گرمی، رہائشی بدحالی اور مشینری حادثات کے باعث مزید اموات رپورٹ ہوئیں۔
2026 میں جنوبی اٹلی کے علاقے کالابریا میں پیش آنے والا واقعہ، جس میں چار زرعی مزدور ایک گاڑی میں جل کر ہلاک ہوئے، اس نظام کی انتہائی خطرناک شکل کو دنیا کے سامنے لے آیا۔
سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں کے مطابق اس عرصے میں اٹلی کے زرعی شعبے میں تقریباً 2 لاکھ سے زائد مزدور استحصالی حالات میں کام کرتے رہے۔
2010 سے 2026 کے دوران رپورٹ شدہ اموات اور سنگین حادثات کی تعداد تقریباً 150 سے 300 کے درمیان بتائی جاتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے کیسز غیر قانونی حیثیت اور کمزور رپورٹنگ نظام کے باعث ریکارڈ میں شامل نہیں ہوتے۔
اٹلی کی زرعی معیشت ایک ایسے تضاد پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف “Made in Italy” کی عالمی پہچان ہے، تو دوسری طرف ہزاروں مزدور غیر انسانی حالات میں اس پیداوار کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
پاکستانی اور بھارتی مزدور اس نظام میں سب سے زیادہ اس لیے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ قانونی، معاشی اور سماجی طور پر نسبتاً زیادہ کمزور پوزیشن میں ہوتے ہیں، جسے منظم لیبر نیٹ ورک بخوبی استعمال کرتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف اٹلی کا نہیں بلکہ عالمی سپلائی چین اور سستی خوراک کی قیمت پر انسانی زندگی کے ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے۔