برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر ممکنہ طور پر آج ہی ڈاؤننگ سٹریٹ چھوڑنے یا استعفے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
چار برسوں میں تیسری بار برطانیہ ایک ایسے مرحلے پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے جہاں وزیرِ اعظم عام انتخابات میں شکست کے باعث نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کے دباؤ کے تحت اقتدار چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
حکومت اور لیبر پارٹی کے اندر موجود متعدد بااثر شخصیات کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر جلد، ممکنہ طور پر آج ہی، اپنے عہدے سے علیحدگی کے منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
لیبر پارٹی کے کئی رہنماؤں کے نزدیک سٹارمر کی وزارتِ عظمیٰ گزشتہ چند ماہ سے مایوس کن ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں اینڈی برنہم کی کامیابی اور اس کی غیرمعمولی شدت نے لیبر پارٹی کے اندر موجود اختلافی آوازوں کو مزید تقویت دی، جو انتخابی مہم کے دوران دب کر رہ گئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے سنیچر اور اتوار کا بیشتر وقت اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور ممکنہ آپشنز پر غور کرتے ہوئے گزارا، جبکہ انھیں یہ احساس بھی تھا کہ ان کے پاس راستے تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کابینہ کے کم از کم چار وزرا، جن میں وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ بھی شامل ہیں، کیئر سٹارمر کو مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنی روانگی کے لیے واضح ٹائم ٹیبل مقرر کریں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق آج صورتِ حال واضح ہونے کا امکان ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ سٹارمر نہ صرف اپنے استعفے بلکہ اقتدار اپنے جانشین کے حوالے کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کریں گے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل چند ہفتوں میں مکمل ہوگا یا اس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اگرچہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے باقاعدہ انتخابی مقابلہ ممکن ہے، تاہم اینڈی برنہم کی بلا مقابلہ نامزدگی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اینڈی برنہم آج دوپہر ہاؤس آف کامنز میں رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر حلف اٹھانے والے ہیں۔