ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر کے ثالثوں نے تہران میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے ’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کیے۔
کاظم غریب آبادی نے پیر کے روز ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس مذاکراتی عمل میں بہت وقت لگا۔‘
’قطری وفد گذشتہ روز تہران میں موجود تھا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن پر بات چیت کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘
’تقریباً 14 سے 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، جس کے دوران ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے متن میں حتمی ترامیم پیش کیں۔ بالآخر ان ترامیم کو قبول کر لیا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر 60 روز کے اندر مذاکرات ہوں گے، جس کے دوران ایران کو ’کئی امور پر بات کرنی ہے‘ اور اس کی اولین ترجیح اس پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے۔