افغانستان : خواتین کے حقوق کے حق میں احتجاج پر طالبان کی فائرنگ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں خواتین کے حقوق اور سخت حجاب پالیسیوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر طالبان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب طالبان انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے لباس اور نقل و حرکت سے متعلق پابندیوں پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہرات کے جبریل علاقے میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حجاب سے متعلق حالیہ کارروائیوں کے دوران گرفتار کی گئی خواتین اور لڑکیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور خواتین کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے تعلیم، روزگار اور سماجی آزادیوں کے حق میں نعرے لگائے۔
عینی شاہدین کے مطابق طالبان اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے سخت وارننگ دی اور بعد ازاں براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ مختلف ذرائع کے مطابق کم از کم ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے۔
احتجاج سے قبل مقامی مساجد میں اعلانات کیے گئے تھے جن میں خواتین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ طالبان حکومت کے مقرر کردہ ضوابط کے مطابق مکمل حجاب اختیار کریں اور بغیر مکمل پردے کے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ ان اعلانات کے بعد متعدد خواتین کو مبینہ طور پر حجاب قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، جس کے ردعمل میں عوامی احتجاج سامنے آیا۔
طالبان حکام نے بعض الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی نظم کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے طاقت کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کی آزادی، نقل و حرکت اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور حجاب قوانین کے نفاذ کے نام پر گرفتاریوں اور سخت کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شرکت پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے مسلسل ان پابندیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہرات میں ہونے والا حالیہ احتجاج طالبان حکومت کے خلاف عوامی سطح پر سامنے آنے والے چند نمایاں مظاہروں میں سے ایک ہے، جو افغانستان میں خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں