جرمنی: طلبہ نے کلاس روم میں دہائیوں سے موجود انسانی ڈھانچے کی آخری رسومات ادا کر کے دفن کر دیا

جرمنی کے ایک اسکول میں طلبہ نے انسانی وقار اور اخلاقی ذمہ داری کی ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے حیاتیات کی کلاس میں کئی دہائیوں سے تدریسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے انسانی ڈھانچے کی باقاعدہ آخری رسومات ادا کر کے اسے سپردِ خاک کر دیا۔
جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر شلائیڈن کے ایک تعلیمی ادارے میں موجود یہ ڈھانچہ 1950 کی دہائی سے طلبہ کو انسانی جسم کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ طلبہ کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرنے لگا کہ آخر یہ ہڈیاں کسی حقیقی انسان کی تھیں اور کیا انہیں صرف ایک تدریسی نمونے کے طور پر دیکھنا درست ہے۔
اسی احساس کے تحت طلبہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نامعلوم شخص کی باقیات کو مناسب احترام کے ساتھ دفن کیا جائے۔ کئی برس تک جاری رہنے والی بحث اور تیاریوں کے بعد اسکول انتظامیہ نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔
اس مقصد کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ، اساتذہ، مقامی حکام اور مذہبی نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران انسانی وقار، اخلاقی اقدار اور مرنے والوں کے احترام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ڈھانچے کی اصل شناخت کے بارے میں کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں تھیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہ باقیات ماضی میں تعلیمی مقاصد کے لیے بیرون ملک سے جرمنی لائی گئی تھیں۔ شناخت نامعلوم ہونے کے باعث تدفین کی تقریب کو بین المذاہب اور بین الثقافتی انداز میں ترتیب دیا گیا تاکہ ہر ممکن احترام کا تقاضا پورا کیا جا سکے۔
تقریب کے بعد انسانی باقیات کو ایک تابوت میں رکھ کر مقامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ نے کہا کہ ان کے نزدیک یہ صرف ایک تدریسی ماڈل نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی باقیات تھیں جو اپنی زندگی میں کسی خاندان اور معاشرے کا حصہ رہا ہوگا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں حیاتیات کی تدریس کے لیے مصنوعی ماڈلز، تھری ڈی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل وسائل وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں، جس کے باعث حقیقی انسانی باقیات کے استعمال سے متعلق اخلاقی سوالات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق جرمنی کے اس واقعے نے دنیا بھر میں تعلیمی اداروں، عجائب گھروں اور تحقیقی مراکز میں موجود انسانی باقیات کے استعمال اور ان کے ساتھ برتے جانے والے رویوں پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ طلبہ کا یہ اقدام اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی اور تعلیمی ضروریات کے ساتھ انسانی احترام اور اخلاقی ذمہ داری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں