سانحہ اٹلی : چار زرعی مزدوروں کی شناخت سامنے آگئی، جاں بحق افراد میں ایک پاکستانی اور تین افغان شہری شامل

اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا کے شہر امینڈولارا (Amendolara) میں پیش آنے والے لرزہ خیز واقعے میں ایک پاکستانی اور تین افغان زرعی مزدوروں کو منی وین کے اندر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، جبکہ ایک افغان مزدور زخمی حالت میں جان بچانے میں کامیاب ہوگیا۔
اطالوی حکام کے مطابق واقعہ گزشتہ پیر کو صوبہ کوزینزا کے ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے ایک منی وین میں آتش گیر مادہ ڈال کر اسے آگ لگا دی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر حملہ آوروں کو گاڑی کے دروازے بند رکھتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ اندر موجود افراد باہر نہ نکل سکیں۔
بعد ازاں پولیس نے قتل کے الزام میں دو 31 سالہ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ استغاثہ کے مطابق گرفتار افراد پر اجتماعی اور سنگین قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی ہے:
* وسیم خان (29 سال) — پاکستانی
* امین فضل خوگجانی (28 سال) — افغان
* اسمت قیومی (19 سال) — افغان
* صفی امجد (27 سال) — افغان
یہ تمام افراد جنوبی اٹلی کے زرعی علاقوں کلابریا اور باسیلیکاتا میں موسمی زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے تھے اور اسٹرابیری چننے کے شعبے سے وابستہ تھے۔
واقعے میں زخمی ہونے والے ایک افغان مزدور نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ گاڑی کی پچھلی جانب سے شیشہ توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مقتولین اور دیگر مزدوروں کو دھمکیاں دی جاتی تھیں اور بعض اوقات انہیں مکمل اجرت بھی نہیں دی جاتی تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ مزدوروں سے زبردستی کام لیا جاتا تھا اور ان پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔اس واقعے نے اٹلی میں تارکین وطن مزدوروں کے استحصال اور غیر قانونی مزدور بھرتی کے نظام ’’کاپورالاتو‘‘ (Caporalato) پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، مزدور یونینوں اور سماجی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے زرعی شعبے میں کام کرنے والے تارکین وطن مزدوروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اطالوی پراسیکیوٹر الیساندرو ڈی الیسیو کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ قتل کے محرکات اور ممکنہ دیگر ملوث افراد کا تعین کیا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ مزدوری، رہائش اور نقل و حمل کے اخراجات سے متعلق تنازعات سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم حکام نے ابھی کسی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں