حکومتی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ایکسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف، رواں مالی سال کے دوران ایکسپورٹس کی مد میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان، 9 ماہ کے دوران ایکسپورٹس میں تقریباً 10 فیصد تک کمی ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں مسلسل ساتویں مہینے تنزلی ہوئی جو مارچ میں سال بہ سال 14.76 فیصد کم ہو کر 2 ارب 36 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی ۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 23-2022 کے ابتدائی 9 مہینوں (جولائی تا مارچ)میں برآمدات 9.87 فیصد کمی کے بعد 21 ارب 4 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ سال کی اس مدت میں 23 ارب 35 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ اندرونی و بیرونی عوامل ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر ٹیکسٹائل کے صنعتی یونٹس کی بندش کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
دوسری طرف، مارچ میں درآمدات بھی 40.25 فیصد کمی کے بعد 3 ارب 82 کروڑ ڈالر رہیں جو گزشتہ برس اسی مہینے میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر تھیں، رواں مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں درآمدات 25.34 فیصد گر کر 43 ارب 94 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 58 ارب 85 کروڑ ڈالر تھیں۔برآمدات میں منفی نمو رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جو ملک کے بیرونی کھاتے میں توازن پیدا کرنے میں مسائل پیدا کرے گا۔
ٹیکسٹائل سیکٹر جس کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد حصہ ہے، اس میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے لیے رواں مالی سال میں برآمدی ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ دوسری جانب رواں مالی سال 2022-23 کے پہلے 9 ماہ کے دوران ملکی تجارتی خسارہ 35.51 فیصد کی ریکارڈ کمی کے ساتھ 22 ارب 90 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ(جولائی 2022 تا مارچ 2023)کے دوران تجارتی خسارے میں 12 ارب 60 کروڑ ڈالر کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
گزشتہ مالی سال اسی مدت میں خسارے کا حجم 35 ارب 50 کروڑ ڈالر تھا۔ادارہ شماریات کے مطابق فروری کی نسبت مارچ 2023 میں برآمدات میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا اور حجم دو ارب 36 کروڑ ڈالر رہا ہے۔اسی طرح جولائی تا مارچ ملکی برآمدات 9 اعشاریہ آٹھ سات فیصد کمی کے ساتھ 21 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔ درآمدات 25 اعشاریہ تین چار فیصد کمی سے 43 ارب 94 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔