اٹلی کے جنوبی صوبہ برِندیزی میں تارکینِ وطن مزدوروں کے استحصال کا انکشاف، مبینہ “کاپورالے” گرفتار

اٹلی کے جنوبی صوبے برِندیزی میں زرعی شعبے میں تارکینِ وطن مزدوروں کے مبینہ استحصال کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ایک مبینہ “کاپورالے” (غیر قانونی مزدور سپروائزر) کو گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائی کے دوران ایک خستہ حال رہائشی ڈھانچہ بھی دریافت کیا گیا جہاں متاثرہ مزدور انتہائی غیر انسانی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
اطالوی حکام کے مطابق گرفتار شخص زرعی مزدوروں کی بھرتی اور ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں انتہائی کم اجرت پر طویل اوقات تک کام پر مجبور کرتا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مزدور روزانہ تقریباً 10 گھنٹے کھیتوں میں کام کرتے تھے، جبکہ انہیں قومی زرعی اجتماعی معاہدے کے مطابق مقررہ اجرت سے کہیں کم معاوضہ دیا جاتا تھا۔ بعض صورتوں میں ان کی کمائی سے رہائش اور دیگر سہولیات کے نام پر اضافی کٹوتیاں بھی کی جاتی تھیں۔
پولیس کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مقام پر ایک انتہائی خستہ حال جھونپڑی نما عمارت ملی، جہاں مزدور غیر مناسب، غیر محفوظ اور غیر صحت مند ماحول میں رہائش پذیر تھے۔ حکام کے مطابق عمارت میں حرارتی نظام موجود نہیں تھا، صفائی کی صورتحال ابتر تھی، جبکہ سرد موسم میں مزدور خود کو گرم رکھنے کے لیے کچرا جلانے پر مجبور تھے، جس سے ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق تھے۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق متعدد مزدور باضابطہ روزگار معاہدوں کے بغیر کام کر رہے تھے اور انہیں نہ تو مناسب طبی سہولیات میسر تھیں اور نہ ہی حفاظتی تربیت فراہم کی گئی تھی۔ بعض افراد کو زرعی مشینری کے استعمال کے لیے ضروری تربیت کے بغیر کام پر لگایا گیا تھا، جس سے حادثات کے خدشات میں اضافہ ہوا۔
استغاثہ کے مطابق گرفتار ملزم پر غیر قانونی مزدور بھرتی، مزدوروں کے استحصال اور لیبر قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت کے حکم پر ملزم کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد اور ممکنہ زرعی اداروں کے کردار کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ کارروائی اٹلی میں زرعی شعبے میں “کاپورالاتو” کے نام سے معروف غیر قانونی لیبر نظام کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت غیر قانونی بھرتی اور مزدوروں کے استحصال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین اور مزدور تنظیموں کے مطابق اٹلی کے بعض زرعی علاقوں میں تارکینِ وطن مزدور اب بھی کم اجرت، غیر محفوظ رہائش اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جو حکام کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں