فرانس نے یوروساٹوری 2026 میں اسرائیل کی سرکاری شرکت محدود کر دی، جارحانہ ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی

پیرس / فرانسیسی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی دفاعی و سلامتی نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروساٹوری 2026 میں اسرائیل کی سرکاری شرکت پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسرائیلی حکومتی نمائندوں اور قومی پویلین کی شرکت محدود کر دی ہے، جبکہ اسرائیلی کمپنیوں کو جارحانہ نوعیت کے ہتھیاروں کی نمائش سے بھی روک دیا گیا ہے۔

فرانسیسی حکام اور نمائش کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاعی نظاموں کی نمائش کی اجازت ہوگی، جبکہ راکٹ، زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل، اور دیگر جارحانہ ہتھیار نمائش میں پیش نہیں کیے جا سکیں گے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے فرانسیسی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اور تجارتی محرکات پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق فرانس نے نہ صرف اسرائیل کی سرکاری نمائندگی محدود کی ہے بلکہ اسرائیلی قومی پویلین کے قیام کی بھی اجازت نہیں دی۔

Mandatory Credit: Photo by Tom Nicholson/Shutterstock (14542656az)
A general view of the outdoor exhibition area.
Eurosatory 2024 International Defence Fair, Paris, France – 17 Jun 2024

یوروساٹوری نمائش 15 سے 19 جون 2026 تک پیرس کے نواحی علاقے ویلپانٹ (Villepinte) میں منعقد ہوگی، جہاں دنیا بھر سے ہزاروں دفاعی ماہرین، فوجی نمائندے، سرکاری وفود اور دفاعی صنعتوں سے وابستہ ادارے شرکت کریں گے۔ منتظمین کے مطابق رواں سال تقریباً 2600 نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے، جو اس ایونٹ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ شمار کی جا رہی ہے۔
فرانس اور اسرائیل کے درمیان دفاعی شعبے میں کشیدگی گزشتہ دو برس کے دوران مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ 2024 کی یوروساٹوری نمائش میں بھی فرانسیسی حکومت نے اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کی شرکت پر مکمل پابندی عائد کی تھی، تاہم بعد ازاں عدالتی کارروائیوں کے نتیجے میں بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فرانس کا حالیہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اگرچہ اسرائیلی کمپنیوں کی مکمل شرکت پر پابندی عائد نہیں کی، تاہم ان کی سرگرمیوں اور نمائش کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر محدود کر دیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوروساٹوری 2026 میں اسرائیلی کمپنیوں کی موجودگی برقرار رہے گی، لیکن ان کی شرکت ماضی کے مقابلے میں محدود ہوگی اور وہ صرف دفاعی نوعیت کے نظاموں کی نمائش تک محدود رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں