سوشل میڈیا پر حکومتی نام نہاد ترجمان

سوشل میڈیا پر حکومتی نام نہاد ترجمان

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں اقتدار ہمیشہ عوامی رائے کے احترام کے بجائے طاقت، جوڑ توڑ اور بیانیے کی جنگ کے ذریعے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ماضی میں یہ کام سرکاری اشتہارات، مخصوص اخبارات اور چند ٹی وی چینلز کے ذریعے کیا جاتا تھا، مگر اب یہ ذمہ داری بڑی حد تک سوشل میڈیا پر موجود حکومتی نام نہاد ترجمانوں نے سنبھال لی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو جھوٹ کو سچ، ظلم کو ضرورت اور غاصب حکمرانی کو ریاستی مفاد بنا کر پیش کرنے میں مصروف ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پر سرگرم یہ نام نہاد ترجمان خود کو تجزیہ کار، محبِ وطن یا نظریاتی سپاہی کے طور پر متعارف کرواتے ہیں، مگر ان کی گفتگو اور تحریر کا مرکزی نکتہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: طاقتور حکمران طبقے کا دفاع، چاہے وہ آئین کی پامالی کرے، عوامی مینڈیٹ کو روندے یا ریاستی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ یہ لوگ سچ کی تلاش نہیں کرتے بلکہ ایسا بیانیہ گھڑتے ہیں جو عوام کو الجھا دے اور اصل سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔
جب پاکستان میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچتی ہے، جب تنخواہ دار طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہوتا ہے، جب نوجوان روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور جب آئین و قانون محض کاغذی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، تو انہی مسائل پر بات کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر مصنوعی بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں۔ کبھی قوم کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اصل خطرہ سوال اٹھانے والے شہری ہیں، کبھی احتجاج کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے، اور کبھی ہر خرابی کا ذمہ دار ماضی کو ٹھہرا کر حال کے مجرموں کو بری الذمہ کر دیا جاتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں اختلافِ رائے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، مگر سوشل میڈیا کے ذریعے اسے باقاعدہ جرم بنا دیا گیا ہے۔ جو صحافی آئینی حدود کی بات کرے، جو وکیل قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرے، یا جو عام شہری اپنے ووٹ کی حرمت پر سوال اٹھائے، اس کے خلاف منظم کردارکشی شروع ہو جاتی ہے۔ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے ہیں، مذہب اور حب الوطنی کو ہتھیار بنا کر مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ اقتدار پر قابض طبقہ کسی بھی صورت جواب دہی سے بچا رہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر جھوٹ اس لیے طاقتور ہے کیونکہ اسے ریاستی خاموش حمایت، منظم نیٹ ورکس اور وسائل حاصل ہیں۔ ٹرینڈز بنائے جاتے ہیں، مخصوص بیانیے کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور یوں ایک جھوٹ کو سچ کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس سچ بولنے والوں کو دباؤ، سنسرشپ اور خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں ایک ایسی فضا جنم لیتی ہے جہاں لوگ بولنے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ طاقت کے سامنے سر جھکانا ہی حب الوطنی ہے، اور سوال اٹھانا بغاوت۔ یہ سوچ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ قومیں سوال سے زندہ رہتی ہیں، خاموشی سے نہیں۔ جب سوال مر جائیں تو پھر فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور عوام محض تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت سچائی، آئین کی بالادستی اور عوامی شعور کی ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے جھوٹے نعروں کی۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر سرکاری بیانیہ مقدس نہیں ہوتا اور ہر اونچی آواز حق پر نہیں ہوتی۔ تنقیدی سوچ، تحقیق اور سوال کرنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس فریب کے جال سے نکال سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اقتدار جھوٹ کے سہارے کچھ عرصہ تو قائم رہ سکتا ہے، مگر تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ غاصب حکمران گئے، ان کے ترجمان بھی مٹ گئے، مگر سچ آج بھی زندہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں یا جھوٹ کے ہجوم میں گم ہو جانا چاہتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں