اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

اسپین نے تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن کے مطابق اس اقدام کے تحت وہ غیر ملکی شہری فائدہ اٹھا سکیں گے جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہوں اور جن کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہو۔
وزارتِ مائیگریشن کا کہنا ہے کہ قانونی حیثیت حاصل کرنے کے بعد یہ افراد ملک کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق ان کے زیرِ کفالت بچوں پر بھی ہوگا، جس سے ہزاروں خاندانوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔
درخواستوں کا طریقۂ کار
حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت درخواستوں کا آغاز اپریل میں متوقع ہے جو جون کے آخر تک جاری رہے گا۔ یہ عمل سرکاری فرمان (ڈکری) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد اہل افراد کو رہائش اور ملازمت کی قانونی اجازت دی جائے گی۔
حکومتی مؤقف
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس فیصلے کو ملک میں افرادی قوت کی کمی اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے پیشِ نظر ایک ضروری اقدام قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی معیشت کو سہارا دینے، لیبر مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور سماجی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔
اپوزیشن کا ردِعمل
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے مستقبل میں غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو امیگریشن پالیسی میں سختی کے بجائے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
پس منظر اور اعداد و شمار
تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں کے مطابق اس وقت اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر دستاویزی تارکینِ وطن مقیم ہیں، جبکہ ملک کی مجموعی آبادی میں 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجرین شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کے باعث اسپین یورپ کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں غیر ملکی آبادی کا تناسب نمایاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں