سرائے عالمگیر پریس کلب الیکشن برائے 2026
سرائے عالمگیر پریس کلب کا الیکشن محض عہدیداروں کے انتخاب کا مرحلہ نہیں بلکہ یہ مقامی صحافت کے مستقبل، صحافیوں کے وقار اور ان کے مسائل کے حل سے جڑی ایک اہم پیش رفت ہوتا ہے۔
ہر الیکشن کے بعد صحافی برادری کی نظریں نومنتخب صدر، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیدران پر مرکوز ہو جاتی ہیں کہ وہ کن ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور عملی طور پر کیا اقدامات کرتے ہیں۔
منتخب قیادت سے بنیادی توقعات
سب سے پہلی اور اہم امید یہ ہوتی ہے کہ پریس کلب کی قیادت صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھے۔ گروپ بندی، ذاتی اختلافات اور مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی سوچ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صدر اور جنرل سیکرٹری کا کردار محض نمائشی نہ ہو بلکہ وہ صحافیوں کے حقیقی مسائل پر آواز بنیں۔
صحافی یہ توقع رکھتے ہیں کہ پریس کلب میں باقاعدہ، فعال اور کھلا ماحول ہوگا جہاں ہر رکن کو اظہارِ رائے کی آزادی ملے۔
• صحافیوں کے لیے بنیادی سہولیات جیسے انٹرنیٹ، کمپیوٹر، لائبریری، بیٹھنے کی مناسب جگہ اور میٹنگ رومز کو بہتر بنایا جائے۔
• ضلعی و تحصیل سطح پر سرکاری دفاتر میں صحافیوں کو درپیش رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے انتظامیہ سے مؤثر رابطہ رکھا جائے۔
• صحافیوں کے لیے تحفظ، قانونی معاونت اور ہنگامی حالات میں مدد کا واضح نظام موجود ہو۔
نئی باڈی سے یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ وہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے:
• ہیلتھ انشورنس، ویلفیئر فنڈ اور مالی معاونت کے منصوبے۔
• تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور جدید صحافتی تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ پروگرامز۔
• نوجوان اور نئے صحافیوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی۔
ایک مضبوط پریس کلب کی پہچان شفاف نظام ہوتا ہے۔ اراکین یہ چاہتے ہیں کہ مالی معاملات، فیصلوں اور سرگرمیوں سے متعلق باقاعدہ آگاہی دی جائے تاکہ اعتماد کی فضا قائم رہے۔
سرائے عالمگیر پریس کلب کے الیکشن کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
اگر نومنتخب صدر، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیدران اخلاص، دیانت اور عملی جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھیں تو پریس کلب نہ صرف صحافیوں کا مضبوط قلعہ بن سکتا ہے بلکہ علاقے میں مثبت، ذمہ دار اور باوقار صحافت کے فروغ کا ذریعہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ صحافیوں کی امیدیں بڑی ہیں، اب قیادت پر ہے کہ وہ ان امیدوں کو کس حد تک حقیقت میں بدلتی ہے۔