چیک جمہوریہ نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2026 سے ملک کے تمام اسکولوں میں لڑکیوں کے ٹوائلٹس میں ماہواری مصنوعات مفت فراہم کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ وزارت صحت کی جانب سے ایک نئے ہائی جین آرڈیننس کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ”ماہواری کی غربت‘‘ سے نمٹنا اور لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر صحت ولاسٹیمل والک نے کہا، ”ماہواری خواتین کی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے، اس لیے کوئی بھی طالبہ ٹوائلٹ پیپر کے ساتھ ہنگامی انتظام کرنے یا مدد مانگنے میں شرمندگی محسوس کرنے پر مجبور نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ اس نئی پالیسی کے تحت نو سال سے زائد عمر کی طالبات کے استعمال کے لیے ٹوائلٹس میں ٹیمپونز اور سینیٹری پیڈز مفت فراہم کیے جائیں گے۔
پائلٹ پراجیکٹس سے قومی پالیسی تک
چیک جمہوریہ میں کچھ ماہ سے ماہواری مصنوعات کی مفت فراہمی کا موضوع زور پکڑ رہا ہے۔ متعدد پائلٹ پراجیکٹس کے تحت کچھ اسکولوں میں پہلے ہی مفت سینیٹری پیڈز اور ٹیمپونز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پراگ میں واقع اسکینڈری اسکول ‘یو یورانی‘ نے گزشتہ خزاں میں فلاحی تنظیم ”پیپل ان نیڈ‘‘ کی ایک مہم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اسکول کی نائب پرنسپل بوزینا پالوسگووا نے بتایا کہ لڑکیوں کے ٹوائلٹس میں ایک ٹوکری رکھی گئی ہے، جس میں مختلف اقسام کی ہائی جین پروڈکٹس موجود ہیں، جنہیں طالبات اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتی ہیں۔
اس پراجیکٹ کی کوآرڈینیٹر کرسٹینا بوجک نے بتایا، ”ہمارا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ماہواری مصنوعات اسکولوں کے ٹوائلٹس کا لازمی حصہ ہونی چاہییں۔ اسکولوں کے ڈائریکٹرز کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ لڑکیاں ان کا غلط استعمال کریں گی یا ٹوائلٹس بند ہو جائیں گے۔ یہ ایک ضروری ضرورت ہے۔‘‘ ان کے مطابق چیک جمہوریہ میں تقریباً 38 ہزار لڑکیاں (12 سے 18 سال کی عمر) ”ماہواری کی غربت‘‘ کا شکار ہیں، یعنی ان کے پاس مناسب ہائی جین پروڈکٹس خریدنے کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں۔
مقامی اقدامات اور بجٹ
اس اعلان کردہ اقدام کی ابتدا اوستراوا شہر سے ہوئی، جہاں نائب میئر زبینک پرازاک نے غیر ملکی ماڈلز سے متاثر ہو کر تجویز پیش کی تھی کہ تمام 54 اسکینڈری اسکولوں میں لڑکیوں کے ٹوائلٹس میں مفت سینیٹری پیڈز کے ڈسپنسرز لگائے جائیں۔ اس کے لیے شہر نے سالانہ 10 لاکھ کرونے (40 ہزار یورو) کا بجٹ مختص کیا ہے۔ پرازاک نے کہا، ”یہ بالکل ویسے ہی ہے، جیسے ٹوائلٹ پیپر یا صابن فراہم کیا جاتا ہے۔‘
قومی سطح پر اس پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے ہائی جین آرڈیننس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ تخمینہ ہے کہ تمام عوامی اسکینڈری اسکولوں، رئیل اسکولوں اور جمنازیمز کو ماہواری مصنوعات فراہم کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 120 ملین کرونے (4.8 ملین یورو) درکار ہوں گے۔
نائب وزیر تعلیم جیری نینٹل نے کہا کہ اس کے لیے وزارت صحت کے ساتھ سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے لیکن مالی فریم ورک قابل عمل ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چیک معاشرہ ابھی تک اس موضوع پر کھل کر بات کرنے کا عادی نہیں ہے۔
ماہواری کی غربت ایک عالمی مسئلہ ہے اور چیک جمہوریہ کا یہ اقدام اسے حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق ہر دسویں لڑکی کو ماہواری مصنوعات خریدنے کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد نہ صرف مالی بوجھ کو کم کرنا بلکہ ماہواری کے موضوع کو شرمندگی سے پاک بنانے کے ساتھ ساتھ اسے معمول کا حصہ بنانا بھی ہے۔
تاہم کچھ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ بوزینا پالوسگووا نے بتایا کہ بہت سی لڑکیاں ماہواری کے بارے میں بات کرنے سے شرماتی ہیں۔ اس سماجی شرمندگی کو ختم کرنے کے لیے اسکولوں میں جنسی تعلیم کے نصاب میں بھی بہتری کی ضرورت ہے تاکہ اس موضوع کو کھلے عام زیر بحث لایا جا سکے۔