پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران تقریباً 40 ہزار مسافروں کو بین الاقوامی پروازوں سے آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے ملک میں امیگریشن پالیسیوں اور شہریوں کے سفر کے حق سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق سال 2025 میں مجموعی طور پر 39,786 مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر بیرون ملک سفر سے روکا گیا۔ یہ کارروائیاں ایئرپورٹس پر موجود امیگریشن اہلکاروں نے “رسک بیسڈ اسکریننگ سسٹم” کے تحت کیں۔
حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات، اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں، کیونکہ گزشتہ برسوں میں متعدد پاکستانی شہری غیر قانونی راستوں کے ذریعے بیرون ملک جا کر مشکلات، حراست یا اموات کا شکار ہوئے۔
سرکاری وضاحت کے مطابق آف لوڈنگ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں جن میں مشکوک سفری پروفائل،جعلی یا نامکمل ویزا دستاویزات، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے تعلق کا شبہ
،ہائی رسک ممالک یا راستوں کی طرف سفر
،امیگریشن قوانین کی عدم مطابقت والے شامل ہیں
ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ فیصلے کسی سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ “معیاری آپریٹنگ طریقہ کار” اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔
آف لوڈ کیے گے مسافروں میں
ورک ویزا ہولڈرز،وزٹ ویزا پر جانے والے افراد،عمرہ ویزا استعمال کرنے والے مسافراور طلبہ شامل تھے
زیادہ تر مسافروں کا رخ خلیجی ممالک تھا، جہاں پاکستانی افرادی قوت کی بڑی تعداد روزگار کے لیے جاتی ہے