یوروساٹوری : 1967 پیرس میں ایک چھوٹی فوجی نمائش سے آغاز، آج عالمی دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی سفارت کاری کا سب سے بڑا پلیٹ فارم

جب دنیا بھر میں جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی، عسکری حکمتِ عملی اور سلامتی کے مستقبل کی بات ہوتی ہے تو چند ایسے عالمی پلیٹ فارم سامنے آتے ہیں جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ فرانس میں منعقد ہونے والی یوروساٹوری (Eurosatory) انہی میں سے ایک ہے، جسے زمینی اور فضائی زمینی دفاعی نظاموں کی دنیا کی سب سے بڑی نمائش قرار دیا جاتا ہے۔

ہر دو سال بعد پیرس میں منعقد ہونے والی یہ نمائش محض اسلحہ یا فوجی سازوسامان کی نمائش نہیں بلکہ عالمی دفاعی صنعت، سلامتی کی پالیسیوں، بین الاقوامی تعلقات اور عسکری تعاون کا ایک ایسا مرکز ہے جہاں دنیا کے اہم ممالک، دفاعی کمپنیاں، فوجی قیادت، حکومتی وفود اور بین الاقوامی میڈیا ایک ہی چھت تلے جمع ہوتے ہیں۔

یوروساٹوری کا آغاز 1967 میں فرانس کے فوجی علاقے ساتوری (Satory) سے ہوا۔ اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ چند درجن نمائش کنندگان پر مشتمل یہ ایونٹ ایک دن عالمی دفاعی صنعت کا سب سے بڑا اجتماع بن جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس نمائش کا مقصد فرانسیسی دفاعی مصنوعات اور عسکری صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کی وسعت بڑھتی گئی اور یہ دنیا کی اہم ترین دفاعی نمائشوں میں شامل ہو گئی۔
1992 میں نمائش کو باقاعدہ طور پر “یوروساٹوری” کا نام دیا گیا اور اسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد امریکہ، روس، یورپ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کی دفاعی صنعتوں نے اس میں بھرپور شرکت شروع کر دی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی دفاعی کمپنیاں اپنی نئی مصنوعات اور جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی سب سے پہلے اسی پلیٹ فارم پر پیش کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

یوروساٹوری میں جدید ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپ خانے، میزائل نظام، فضائی دفاعی ٹیکنالوجی، فوجی ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، سائبر سکیورٹی پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی نظام، بارڈر سکیورٹی ٹیکنالوجی اور خصوصی فورسز کے آلات سمیت دفاعی شعبے کی تقریباً ہر نئی ایجاد پیش کی جاتی ہے۔ نمائش کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ کئی نظاموں کا عملی مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے جس سے شرکاء کو جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں عالمی سلامتی کی صورتحال میں آنے والی تبدیلیوں نے یوروساٹوری کی اہمیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کی دوڑ نے دنیا بھر کی توجہ دفاعی شعبے کی جانب مبذول کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نمائش میں ہونے والی پیش رفت کو عالمی دفاعی پالیسیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔

2020 میں عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث یہ نمائش منسوخ کر دی گئی تھی، تاہم 2022 میں اس کی شاندار واپسی نے ثابت کر دیا کہ یوروساٹوری کی عالمی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ 2024 کے ایڈیشن میں ہزاروں پیشہ ور زائرین، سینکڑوں سرکاری وفود اور دو ہزار سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی، جبکہ 2026 کے ایڈیشن کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑی شرکت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
رواں سال یوروساٹوری ایک اور وجہ سے عالمی خبروں کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اسرائیل کی سرکاری شرکت پر بعض پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اسرائیلی قومی پویلین کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ بعض جارحانہ ہتھیاروں کی نمائش بھی محدود کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دیا ہے اور یوروساٹوری کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یوروساٹوری صرف ایک تجارتی نمائش نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے مستقبل کا آئینہ ہے۔ یہاں ہونے والی ملاقاتیں، معاہدے، ٹیکنالوجی کی نمائش اور پالیسی مباحث آنے والے برسوں میں عالمی دفاعی رجحانات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
1967 میں ایک محدود فوجی نمائش کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک ایسے عالمی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں دنیا کے مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی، دفاعی حکمتِ عملی اور سلامتی کے تصورات تشکیل پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دو سال بعد پیرس میں منعقد ہونے والی یوروساٹوری پر دنیا بھر کے حکومتی اداروں، دفاعی ماہرین، سرمایہ کاروں اور صحافیوں کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں