کوپن ہیگن میں رنگوں، ذائقوں اور ثقافتوں سے سجا سفارتی بازار — پاکستانی اسٹال توجہ کا مرکز بن گیا

کوپن ہیگن میں رنگوں، ذائقوں اور ثقافتوں سے سجا سفارتی بازار — پاکستانی اسٹال توجہ کا مرکز بن گیا
رپورٹ: واجد قریشی، (ڈنمارک):
کوپن ہیگن میں منعقد ہونے والا سفارتی بازار مختلف ثقافتوں، رنگوں اور روایات کا ایک دلکش امتزاج بن کر اُبھرا، جہاں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ممالک نے اپنی تہذیب، ثقافتی ورثے اور روایتی کھانوں کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ میلے میں موجود ہر اسٹال اپنی الگ پہچان اور ثقافتی رنگ لیے ہوئے تھا، تاہم پاکستانی اسٹال اپنی شاندار سجاوٹ، روایتی مہمان نوازی اور لذیذ پکوانوں کے باعث شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا۔ تقریب میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، خاندانوں اور سفارتی شخصیات نے بھرپور شرکت کی اور ثقافتی ہم آہنگی، محبت اور رواداری کے اس خوبصورت منظر کو بے حد سراہا۔

پاکستانی اسٹال پر آنے والے مہمانوں کی تواضع چٹ پٹی چنے چاٹ، خستہ و سنہری سموسوں، خوشبو میں بسی روایتی بریانی اور ذائقے سے بھرپور چکن کڑی سے کی گئی، جنہوں نے ہر آنے والے کے ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ روایتی پاکستانی پکوانوں کی دلکش خوشبو اور خوبصورت اندازِ پیشکش نے نہ صرف شرکاء کو مسحور کیے رکھا بلکہ انہیں پاکستان کی ثقافت، خلوص بھری مہمان نوازی اور روایتی ذائقوں کا بھرپور احساس بھی دلایا۔ غیر ملکی مہمان خصوصی طور پر پاکستانی کھانوں کے منفرد ذائقے اور محبت بھرے استقبال سے بے حد متاثر دکھائی دیے۔

بازار میں قائم رنگ برنگی چوڑیوں، روایتی ملبوسات اور ثقافتی دستکاری سے مزین اسٹالز بھی شرکاء کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ خواتین اور بچوں نے خصوصی طور پر چوڑیوں، روایتی زیورات اور ہاتھ سے تیار کردہ ثقافتی اشیاء میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر مہندی لگانے کا خصوصی اسٹال بھی موجود تھا، جہاں بچیوں اور خواتین کا خاصا رش دیکھنے میں آیا۔ شرکاء نے نہایت شوق اور خوشی کے ساتھ اپنے ہاتھوں پر خوبصورت مہندی کے ڈیزائن بنوائے اور اس روایتی فن کو بے حد سراہا۔ بازار میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے، تصاویر بنواتے اور ثقافتی رنگوں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔

تقریب کا ماحول نہایت خوشگوار، پُرجوش اور بین الثقافتی ہم آہنگی کا عکاس تھا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام نہ صرف مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں بلکہ محبت، احترام اور رواداری کے جذبات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

منتظمین کے مطابق سفارتی بازار کا مقصد مختلف ممالک کی ثقافتوں، روایات اور کھانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متعارف کروانا اور کمیونٹی کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا تھا، جس میں بھرپور کامیابی حاصل ہوئی۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا رہے گا تاکہ مختلف ثقافتوں کے رنگ ایک دوسرے کے ساتھ اسی محبت اور احترام کے ساتھ جڑتے رہیں۔

رپورٹ: واجد قریشی، (ڈنمارک):

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں