“حسد کی آگ اور کردار کی روشنی”
“جب دوسروں کی کامیابی انسان کے اندر چھپی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیتی ہے”
تحریر: واجد قریشیؔ(ڈنمارک)
معاشرہ صرف عمارتوں، سڑکوں اور اداروں سے نہیں بنتا بلکہ انسانوں کے کردار، سوچ اور رویّوں سے تشکیل پاتا ہے۔ جہاں اخلاص، محنت، خیر خواہی اور ذمہ داری کا احساس موجود ہو وہاں ترقی، سکون اور اعتماد جنم لیتا ہے، مگر جہاں حسد، بغض، منافقت اور احساسِ محرومی دلوں میں گھر کر جائیں وہاں تعلقات کمزور، ماحول زہریلا اور انسان اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ دوسروں کی ناکامی پر تو خاموش رہتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی شخص اپنی محنت، دیانت داری اور اچھے کردار کی بدولت آگے بڑھنے لگتا ہے، کئی دل بے چین ہو اٹھتے ہیں۔ انہیں یہ خوف گھیر لیتا ہے کہ کہیں کسی دوسرے کی کامیابی ان کی اپنی غفلت، نااہلی اور کوتاہی کو ظاہر نہ کر دے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حسد انسان کے کردار پر غالب آنا شروع ہو جاتا ہے۔
دوسروں کی روشنی سے خوفزدہ بعض لوگوں کے دلوں میں حسد اور بغض اس قدر رچ بس جاتا ہے کہ وہ نہ صرف خود اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص خلوصِ نیت، محنت اور دیانت داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کر رہا ہو تو اس کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے لگتے ہیں۔
انہیں ہر لمحہ یہ خوف ستاتا رہتا ہے کہ کہیں کسی دوسرے کی کامیابی، اعلیٰ کردار اور مسلسل محنت ان کی اپنی کمزوریوں کو بے نقاب نہ کر دے۔ یہی احساسِ محرومی انہیں اس بات پر اُکساتا ہے کہ وہ دوسروں کے حوصلے توڑیں، ان کے کام میں خامیاں تلاش کریں، ان کی نیت پر شک کریں اور حتیٰ کہ ان کی ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کریں۔
ایسے لوگ دراصل دوسروں کی روشنی سے نہیں بلکہ اپنی تاریکی سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص خود عمل سے خالی ہو، وہ دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی کا آئینہ سمجھنے لگتا ہے۔
ایک ادارے میں دو افراد ساتھ کام کرتے تھے۔
پہلا شخص خاموش طبیعت، ذمہ دار اور نہایت محنتی تھا۔ وہ وقت کی پابندی کرتا، اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھاتا اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔ رفتہ رفتہ لوگ اس کی عزت کرنے لگے اور اس کی رائے کو اہمیت دی جانے لگی۔
دوسرا شخص اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتتا، وقت ضائع کرتا اور اپنی کوتاہیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ محنتی شخص عزت، اعتماد اور کامیابی حاصل کر رہا ہے تو اس کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔
کبھی وہ اس کے خلاف افواہیں پھیلاتا، کبھی اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا اور کبھی دوسروں کے سامنے اس کی خامیاں بیان کرتا۔ اسے یہ برداشت نہیں تھا کہ کوئی دوسرا شخص اپنی محنت اور کردار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لے۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت سب پر آشکار ہوتی چلی گئی۔ محنتی شخص اپنی سچائی، اخلاص اور کردار کی وجہ سے مزید مضبوط ہوتا گیا، جبکہ حسد کرنے والا شخص آہستہ آہستہ اپنی ہی منفی سوچ کا شکار ہو کر تنہا رہ گیا۔
کیونکہ سچائی وقتی طور پر دب تو سکتی ہے، مگر مٹ نہیں سکتی۔
کیونکہ حسد ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو انسان کے دل، سوچ اور کردار کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔ حسد کرنے والا شخص نہ خود سکون میں رہتا ہے اور نہ دوسروں کی خوشی برداشت کر پاتا ہے۔ دوسروں کی کامیابی، عزت اور اچھا کردار اسے اندر ہی اندر بے چین رکھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ دوسروں کی روشنی بجھانے کی کوشش میں اپنی ہی شخصیت کا وقار کھو بیٹھتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ باکردار اور ذمہ دار لوگ اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔ مخالفتیں اور رکاوٹیں وقتی طور پر راستہ مشکل ضرور بنا سکتی ہیں، مگر سچائی، محنت اور خلوص کو شکست نہیں دے سکتیں۔ یہی خوبیاں آخرکار انسان کو عزت اور دلوں میں جگہ دلاتی ہیں۔
یاد رکھیں، دانشمند وہی ہے جو دوسروں کی کامیابی سے جلنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھائے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ کیونکہ کانٹے بچھانے والے وقتی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں، مگر عزت ہمیشہ وہی لوگ پاتے ہیں جو خیر خواہی، محبت اور اچھے کردار کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، مگر اچھا کردار اور نیک عمل ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اسی لیے اگر حقیقی سکون، عزت اور کامیابی چاہیے تو دوسروں کی روشنی بجھانے کے بجائے اپنی ذات کو روشن کیجیے، کیونکہ اندھیرا چراغ بجھانے سے نہیں، چراغ جلانے سے ختم ہوتا ہے۔