میڈرڈ : اسپین نے یورپی یونین کے نئے انٹری اینڈ ایگزٹ سسٹم (EES) کے نفاذ کے پیشِ نظر اپنے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس جدید نظام کا مقصد یورپی یونین سے باہر سے آنے والے مسافروں کی آمد و رفت کو زیادہ مؤثر اور محفوظ بنانا ہے۔
European Union کے تحت متعارف کرایا گیا یہ نیا نظام روایتی پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے طریقہ کار کو ختم کرتے ہوئے جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، جس میں مسافروں کے فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اسپین کے بڑے ہوائی اڈوں کو جدید بائیومیٹرک آلات سے لیس کر دیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ابتدائی مرحلے میں مسافروں کو امیگریشن کے عمل میں کچھ تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے نہ صرف سرحدی سکیورٹی کو بہتر بنایا جائے گا بلکہ شینگن علاقے میں داخل ہونے والے غیر یورپی شہریوں کے قیام کی مدت کی درست نگرانی بھی ممکن ہو سکے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام یورپی سرحدی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے مکمل مؤثر نفاذ کے لیے مسافروں اور عملے کو نئے نظام سے ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔