طرابلس / بحیرہ روم
لیبیا سے غیرقانونی طور پر یورپ جانے والے مہاجرین کی ایک کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد کے جاں بحق یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ درجنوں افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے مطابق کشتی میں تقریباً 100 سے زائد افراد سوار تھے جو لیبیا سے اٹلی جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ حادثہ خراب موسم اور تیز لہروں کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی۔
ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ چند لاشیں بھی نکالی گئی ہیں، تاہم 70 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
بچ جانے والے افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں پاکستان، بنگلہ دیش اور مصر کے افراد کی موجودگی کی اطلاعات ہیں،
امدادی کارروائیوں کے دوران متاثرین کو بحیرہ روم کے جزیرے لیمپیدوسا منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک سینکڑوں مہاجرین بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں جان گنوا چکے ہیں، اور یہ راستہ دنیا کے خطرناک ترین مہاجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔