فرانس کا دوٹوک مؤقف : آبنائے ہرمز کھولنے کے کسی فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لیں گے

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے واضح اور دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس موجودہ کشیدہ حالات میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا، کیونکہ ان کے بقول فرانس اس تنازع کا فریق نہیں ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، شدید متاثر ہو چکی ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔
صدر میکرون نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس غیر ضروری فوجی مداخلت سے گریز کرے گا اور کسی بھی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوگا جو براہِ راست جنگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کسی فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ بیان امریکی مطالبے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں اتحادی ممالک سے آبنائے ہرمز میں بحری سیکیورٹی کے لیے تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔ تاہم فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک نے اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
تاہم فرانسیسی صدر نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر خطے کی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور کشیدگی کم ہوتی ہے تو فرانس ایک بین الاقوامی اور غیر جنگی اتحاد کے تحت جہازوں کی حفاظت کے لیے محدود کردار ادا کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فرانس کا یہ فیصلہ یورپ کی مجموعی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ یورپی ممالک مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں براہِ راست شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش یا عدم فعالیت کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر سفارتی کوششوں میں تیزی آنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں