جرمنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں فوجی تعاون کی درخواست کو مسترد کر دیا

جرمنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں فوجی تعاون کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
جرمن وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے واضح طور پر کہا کہ جرمنی اس تنازع میں عسکری طور پر شامل نہیں ہوگا اور اس مسئلے کا حل سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا: “یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا” اور مزید زور دیا کہ کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے پہلے بین الاقوامی قانونی فریم ورک اور پارلیمانی منظوری ضروری ہے۔
چانسلر فریڈرک مرز نے بھی اعلان کیا کہ جرمنی نہ تو نیٹو کے تحت اور نہ ہی کسی اور پلیٹ فارم پر ایران کے خلاف جنگ میں شریک ہوگا، کیونکہ اس کے لیے کوئی بین الاقوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔
امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے آبنائے ہرمز میں بحری مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک نے اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں اور کسی بڑی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، حالیہ کشیدگی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ امریکہ نے اس علاقے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور اتحادی ممالک سے فوجی مدد طلب کی ہے، لیکن یورپی ممالک، بشمول جرمنی، نے واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں عسکری مداخلت نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں