بارسلونا /اسپین میں دو پاکستانی نژاد بہنوں کے کیس میں اہم پیش رفت، والد سمیت تین ملزمان کے لیے مجموعی طور پر 36 سال قید کی استدعا

بارسلونا / اسپین میں قتل ہونے والی پاکستانی نژاد دو بہنوں عروج عباس اور انیسہ عباس کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہسپانوی پراسیکیوٹرز نے دونوں کے والد غلام عباس کے لیے 14 سال قید کی سزا کا مطالبہ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہسپانوی استغاثہ نے 10 مارچ 2026 کو عدالت میں چارج شیٹ جمع کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم غلام عباس نے اپنی بیٹیوں کو جبری شادی پر مجبور کرنے، ان پر مسلسل تشدد کرنے اور انہیں دباؤ میں رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
استغاثہ کے مطابق مقدمہ اسپین کے شہر ٹیراسا (بارسلونا) میں پیش آنے والے جرائم سے متعلق ہے، جن میں جبری شادی کے مقصد سے انسانی اسمگلنگ، گھریلو تشدد اور جبر کے ذریعے بیٹیوں کو شادی پر مجبور کرنا شامل ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق اسی مقدمے میں غلام عباس کے دو بیٹوں کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔ پراسیکیوٹرز نے شہریار کے لیے بھی 14 سال قید کی سزا کی استدعا کی ہے، جب کہ اسفندیار کے لیے نسبتاً کم ملوث ہونے کے باعث 8 سال قید مانگی گئی ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ان جرائم تک محدود ہے جو اسپین میں پیش آئے، جب کہ دونوں بہنوں کے قتل میں ممکنہ معاونت کے حوالے سے الگ تحقیقات جاری ہیں۔
عروج عباس (24) اور انیسہ عباس (21) ہسپانوی اور پاکستانی دوہری شہریت رکھتی تھیں اور اسپین کے شہر ٹیراسا میں رہائش پذیر تھیں۔ رپورٹس کے مطابق 2021 کے دوران انہیں پاکستان میں اپنے کزنز سے زبردستی شادی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ اسپین میں قیام کے دوران دونوں بہنیں مبینہ طور پر گھریلو تشدد، سخت نگرانی اور آزادی پر پابندیوں کا سامنا کرتی رہیں، جب کہ خاندان کی جانب سے شادی قبول کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
مئی 2022 میں انہیں ماں کی بیماری اور خاندانی ملاقات کے بہانے پاکستان بلایا گیا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد جب دونوں بہنوں نے اپنے شوہروں کے لیے اسپین کا ویزا اسپانسر کرنے سے انکار کیا اور طلاق لینے کا ارادہ ظاہر کیا تو مبینہ طور پر خاندانی تنازع شدت اختیار کر گیا۔
رپورٹس کے مطابق 20 مئی 2022 کو صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے قریب ایک گاؤں میں دونوں بہنوں کو تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد پاکستان میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں دونوں شوہر، ایک چچا اور بھائی شہریار بھی شامل تھے۔ ابتدائی تفتیش میں بعض ملزمان کی جانب سے اعترافی بیانات بھی سامنے آئے تھے، تاہم بعد ازاں خاندانی معافی اور شواہد کی کمی کے باعث عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔
اس کیس کے سلسلے میں فروری 2023 میں غلام عباس کو ٹیراسا میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا، تاہم ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور اسپین چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
ہسپانوی عدالت نے مقدمے کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اسپین میں ہونے والے مبینہ جرائم، جن میں جبری شادی اور گھریلو تشدد شامل ہیں، کی سماعت جاری ہے، جب کہ دوسرے حصے میں قتل میں ممکنہ معاونت کے حوالے سے تحقیقات قومی عدالت (آڈینسیا نیشنل) میں جاری ہیں۔
یہ مقدمہ جبری شادی، غیرت کے نام پر تشدد اور تارکین وطن کمیونٹیز میں خواتین کے حقوق اور انصاف کے مسائل پر یورپ میں وسیع بحث کا سبب بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں