اسپین میں جعلی رہائشی اجازت نامے دلوانے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 61 افراد گرفتار، 5 ہزار تارکین وطن کے ریکارڈ کی جانچ شروع

اسپین کی نیشنل پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے دوران جعلی دستاویزات کے ذریعے تارکین وطن کو رہائشی اجازت نامے دلوانے والے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 61 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو میونسپل رجسٹریشن (ایمپاڈرونامینٹو) اور فرضی ملازمت کے معاہدے فراہم کرتا تھا تاکہ وہ اسپین میں قانونی قیام کے لیے درخواست دے سکیں۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی طویل تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی، جس میں زاراگوزا سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ گرفتار افراد میں مبینہ نیٹ ورک کے سرغنہ، درمیانی ایجنٹس اور وہ گھر مالکان بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے گھروں کے پتے جعلی رجسٹریشن کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ نے جعلی رہائشی اندراج اور فرضی ملازمت کے معاہدوں کے ذریعے تقریباً 5 ہزار تارکین وطن کو فائدہ پہنچایا۔ پولیس کے مطابق بعض گھروں میں درجنوں افراد کو کاغذات میں رہائشی ظاہر کیا گیا تھا حالانکہ وہ حقیقت میں وہاں مقیم نہیں تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک ہر شخص سے جعلی رجسٹریشن اور دستاویزات کے بدلے 500 سے 3 ہزار یورو تک وصول کرتا تھا۔ بعض کیسز میں فرضی کمپنیوں کے ذریعے سوشل سیکیورٹی ریکارڈ بھی تیار کیے جاتے تھے تاکہ درخواست دہندگان کا قیام قانونی دکھایا جا سکے۔
پولیس نے کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں جعلی دستاویزات، الیکٹرانک ریکارڈ اور نقد رقم بھی ضبط کی ہے۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں زاراگوزا کے علاوہ اسپین کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلی ہوئی تھیں۔
ادھر حکام نے تقریباً 5 ہزار افراد کے ریکارڈ کی چھان بین شروع کر دی ہے جنہوں نے اس نیٹ ورک کے ذریعے کاغذات حاصل کیے تھے۔ اگر تحقیقات میں فراڈ ثابت ہوا تو ان افراد کے اقامے منسوخ کیے جا سکتے ہیں اور انہیں ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہسپانوی حکام کے مطابق میونسپل رجسٹریشن یا ایمپاڈرونامینٹو اسپین میں قانونی رہائش حاصل کرنے کا ایک بنیادی مرحلہ ہے، اسی لیے اس نظام میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان بھی موجود ہے::

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں