اٹلی کے شہر Turin ٹورین میں ایک پاکستانی خاتون کی جانب سے اپنی کمسن بچی کو بالکونی سے لٹکانے کے مبینہ واقعے نے مقامی آبادی اور سوشل میڈیا پر شدید تشویش پیدا کر دی۔ عینی شاہدین کی اطلاع پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو محفوظ حالت میں تحویل میں لے لیا جبکہ خاتون کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ ٹورین کے رہائشی علاقے Madonna di Campagna میں ایک اپارٹمنٹ عمارت کی بالائی منزل پر پیش آیا۔ ایک پڑوسی خاتون نے مبینہ طور پر دیکھا کہ ایک عورت اپنے تقریباً دو سالہ بچے کو بالکونی سے نیچے کی طرف لٹکا رہی ہے۔ اس خطرناک منظر کو دیکھ کر پڑوسی نے فوری طور پر پولیس اور ہنگامی خدمات کو اطلاع دی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور بچے کو ممکنہ خطرے سے نکال کر محفوظ کر لیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بچہ بلند منزل سے لٹکایا گیا تھا جس کے باعث اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، تاہم خوش قسمتی سے بچے کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بچے کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے “ڈسپلن” کرنے کے لیے ایسا کر رہی تھی۔ تاہم اطالوی حکام نے اس عمل کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا رویہ بچوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق خاتون کے خلاف بچوں کے ساتھ نامناسب اور خطرناک تادیبی طریقہ اختیار کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ بچوں کو عارضی طور پر سماجی خدمات کے اداروں کی نگرانی میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی حفاظت اور فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔
واقعے کے منظرعام پر آنے کے بعد مقامی سطح پر بچوں کے تحفظ، خاندانی ذمہ داریوں اور والدین کے رویوں سے متعلق نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ بچوں کی پرورش میں ذمہ داری اور احتیاط انتہائی ضروری ہے۔
یورپی ممالک میں بچوں کے تحفظ کے قوانین نہایت سخت ہیں اور کسی بھی بچے کو خطرناک صورتِ حال میں ڈالنے یا اس کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کی صورت میں والدین کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں اس واقعے کی تفتیش بھی جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔