اطالوی جزیرے لامپی ڈوزہ کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، 64 افراد کو بچا لیا گیا، ایک بچہ لاپتہ

بحیرہ روم میں اطالوی جزیرے لامپی ڈوزہ کے قریب تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں 64 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ ایک بچہ تاحال لاپتہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق کشتی افریقی ممالک سے یورپ جانے والے تارکینِ وطن کو لے کر لامپی ڈوزہ کی طرف جا رہی تھی کہ منزل کے قریب پہنچنے سے قبل نامعلوم وجوہات کی بنا پر اچانک سمندر میں ڈوب گئی۔ اطلاع ملتے ہی اطالوی کوسٹ گارڈ نے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا اور کشتی میں سوار بیشتر افراد کو سمندر سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
کوسٹ گارڈ حکام کے مطابق حادثے میں ایک بچہ لاپتہ ہو گیا ہے جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے تاہم خراب موسمی حالات اور سمندر کی صورتحال کے باعث اس کے زندہ ملنے کے امکانات کم ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ کشتی کا خستہ حال ہونا یا زیادہ مسافروں کا سوار ہونا ہو سکتی ہے، تاہم حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ اطالوی جزیرہ لامپی ڈوزہ گزشتہ کئی برسوں سے افریقہ سے یورپ ہجرت کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ انسانی اسمگلروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی پرانی اور غیر محفوظ کشتیوں کے باعث اس خطرناک سمندری سفر کے دوران ہر سال بڑی تعداد میں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق رواں موسمِ سرما میں بحیرہ روم کے وسطی راستے پر خراب موسم اور طوفانوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں اٹلی کے ساحلوں کے قریب بہتی ہوئی لاشیں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں