افغانستان سے دہشت گردی کے خطرے پر عالمی توجہ دوبارہ مرکوز کی جائے: سفیر پاکستان ممتاز زہرہ بلوچ کا فرانسیسی میگزین Opinion Internationale کوخصوصی انٹرویو

فرانس میں پاکستان کی سفیر Mumtaz Zahra Baloch نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے ابھرنے والے دہشت گردی کے خطرے پر دوبارہ سنجیدگی سے توجہ دے، بصورت دیگر یہ خطرہ خطے سے باہر دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔
فرانسیسی میگزین Opinion Internationale کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر حالیہ فوجی کارروائیاں کسی حملے کے مترادف نہیں تھیں بلکہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایک محدود اور مخصوص آپریشن تھا۔ ان کے مطابق 28 فروری کو کی گئی کارروائی سرحد پار دہشت گردوں کی دراندازی کے جواب میں کی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔
سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں، خصوصاً Tehrik-i-Taliban Pakistan (ٹی ٹی پی) اور دیگر عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، تاہم پاکستان کے ان مطالبات کو نظر انداز کیا گیا اور بعض گروہوں کو تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔
سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ Durand Line کے حوالے سے کوئی سرحدی تنازع موجود نہیں، کیونکہ یہ سرحد اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ تشویش دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان تاریخی اور ثقافتی روابط ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔
طالبان کے ساتھ نظریاتی اختلاف کی وضاحت کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان اپنے آئینی نظام کا پابند ہے جہاں خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان خواتین کی مدد کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے، جن میں افغان طالبات کے لیے تعلیمی وظائف بھی شامل ہیں تاکہ وہ کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ پاکستان آ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی سربراہی میں چلنے والے افغان کاروباروں کو پاکستان میں ڈیوٹی فری تجارت کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ایران پر کسی بھی حملے کو United Nations کے چارٹر کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس سے عالمی کثیرالجہتی نظام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے خبردار کیا کہ Taliban کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد عالمی برادری کی توجہ افغانستان سے ہٹ گئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملا اور اب یہ مسئلہ عالمی سلامتی کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں