“اسپین تنہا نہیں، پہل کرنے والا ہے” — فلسطین کی حمایت پر ہسپانوی وزیر اعظم کا دوٹوک مؤقف

Pedro Sánchez، وزیر اعظمِ Spain نے کہاہے کہ اسپین عالمی سطح پر تنہا نہیں بلکہ انسانی حقوق کے دفاع میں سب سے پہلے قدم اٹھانے والا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسپین نے State of Palestine کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت بھی بعض حلقوں نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ اسپین تنہا ہو جائے گا، مگر بعد میں کئی ممالک نے اسی مؤقف کی حمایت کی۔

ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیڈرو سانچیز نے کہا:
“آپ نے سنا ہوگا کہ اسپین تنہا ہے۔ جب ہم نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا تب بھی یہی کہا گیا تھا، مگر بعد میں دوسرے ممالک بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ ہم تنہا نہیں، ہم پہل کرنے والے ہیں۔ دراصل آخرکار تنہا وہ ممالک رہ جائیں گے جو ظلم کا دفاع کرتے ہیں۔”
ہسپانوی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور امن کے اصولوں کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا کسی ملک کی کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ اسپین نے 2024 میں Ireland اور Norway کے ساتھ مل کر فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل اور پائیدار امن کی حمایت کرنا بتایا گیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسپین کا یہ مؤقف یورپ میں فلسطین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی سفارتی حمایت کی علامت سمجھا جا رہا ہے اور اس نے عالمی سطح پر اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں