برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) — North Atlantic Treaty Organization (نیٹو) کے سربراہ Mark Rutte نے واضح کیا ہے کہ نیٹو بطور اتحاد امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو سربراہ کا کہنا تھا کہ اتحاد کی بنیادی ذمہ داری اپنے رکن ممالک کا مشترکہ دفاع ہے اور موجودہ صورتحال میں نیٹو کسی نئی عسکری کارروائی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تشویش ناک ہے، تاہم نیٹو اس تنازع کا فریق نہیں بنے گا۔

حالیہ دنوں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب United States اور Israel نے Iran کے خلاف فوجی نوعیت کی کارروائیاں کیں، جنہیں تہران کے جوہری اور میزائل پروگرام سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی جوابی اقدامات کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر نیٹو اس تنازع میں شامل ہو جاتا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی تھی، تاہم حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔
نیٹو حکام کے مطابق اتحاد کا مقصد اپنے رکن ممالک کا مشترکہ دفاع ہے، نہ کہ ہر علاقائی تنازع میں شمولیت اختیار کرنا۔
• رکن ممالک اپنی قومی پالیسی کے تحت فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، تاہم یہ فیصلے نیٹو کی اجتماعی کارروائی نہیں ہوں گے۔
خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔

عالمی برادری کی جانب سے بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔
نیٹو سربراہ کے واضح اعلان کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی کشیدگی میں اتحاد براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا فریقین سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں یا خطے کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔
