فرانس اپنی جوہری طاقت میں اضافہ کرے گا اور اپنی نئی جوہری حکمت عملی میں تبدیلی لائے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کو ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ فرانس اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کرے گا اور اپنی جوہری دفاعی حکمت عملی کو تقویت دے گا۔ یہ فیصلہ دس سالوں میں فرانس کی جوہری پالیسی میں سب سے بڑا بدلاؤ سمجھا جا رہا ہے۔
صدر میکرون نے بریتنی میں واقع جوہری آبدوزوں کے اڈے (Île Longue) پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی گہری جیوپولیٹیکل تبدیلیوں، روسی جارحیت، اور امریکی دفاعی وابستگی میں غیر یقینی صورتحال جیسے عوامل کے پیشِ نظر، فرانس کو اپنی جوہری طاقت مضبوط کرنی ہوگی۔
فرانس اپنی جوہری وارہیڈز (warheads) کی موجودہ تعداد میں اضافہ کرے گا، جو اس وقت تقریباً 290ہے —
یہ تعداد سرد جنگ کے بعد کی سب سے بڑی توسیع ہوگی۔
نئی حکمت عملی کو “advanced deterrence” (ترقی یافتہ روک تھام) کہا گیا ہے، جس کے تحت فرانس یورپی اتحادیوں کے ساتھ اپنے نیوکلیئر کردار میں تعاون بڑھائے گا۔
بعض اتحادی ممالک (جیسے جرمنی، پولینڈ، بیلجیم، ڈنمارک اور سویڈن) فرانس کے جوہری ورزشوں اور مشقوں (nuclear exercises) میں حصہ لے سکتے ہیں۔
فرانس اپنے جوہری اسلحے کی استعمال کا فیصلہ صرف خود کرے گا، یعنی یہ اختیار صدر میکرون کے پاس ہی رہے گا۔
صدر میکرون نے کہا ہے کہ فرانس کی جوہری طاقت نہ صرف ملک کی حفاظت کے لیے ہے بلکہ یورپی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگِ بنیاد کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی پالیسی نیٹو کے ساتھ ہم آہنگ رہے گی اور مغربی اتحادیوں کے تعاون پر مبنی ہے۔
یہ فیصلہ عالمی سطح پر ملا جلا ردِ عمل پیدا کر رہا ہے — کچھ ملکوں نے اسے یورپی دفاع کی مضبوطی کے لیے ضروری قرار دیا ہے، جبکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حامی گروپ اسے تناؤ بڑھا دینے والا قرار دیتے ہیں۔
فرانس یورپی یونین کا واحد ایٹمی قوت والا ملک ہے اور سرد جنگ کے بعد سے اس نے اپنی جوہری پالیسی میں چند بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ موجودہ اعلان اس تناظر میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرائن کا تنازع جاری ہے، اور امریکی دفاعی پالیسی میں بدلاؤ نے یورپی حکومتوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں