گزشتہ چند روز قبل ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے والے 37 سالہ محسن صدیقی کی کل نماز جنازہ ادا کی جائےگی، جبکہ 81 سالہ شخص پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اٹلی کے شہر سوزارا میں پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں 37 سالہ محسن صدیقی جان کی بازی ہار گئے۔ ابتدائی طورپر واقعے کو طبیعت خراب ہونے کا شبہ سمجھا گیا، تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر کا نتیجہ تھا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
17 فروری کی رات محسن صدیقی کو سڑک کنارے شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ مقامی پولیس موقع پر پہنچی اور انہیں فوری طورپر اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم Mantova کے اسپتال لے جاتے ہوئے ایمبولینس میں ہی ان کا دل بند ہو گیا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
مرحوم محسن صدیقی ماضی میں Iveco کمپنی میں بطور مزدور کام کر چکے تھے۔ وہ اپنی اہلیہ اور دو کمسن بچوں (6 اور 4 سال) کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
تحقیقات میں پیش رفت
کارابینیری اور مقامی پولیس نے مشترکہ طور پر تحقیقات کیں۔ علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ایک مشتبہگاڑی کی نشاندہی کی گئی جو واقعے کے وقت جائے حادثہ سے گزری تھی۔ ویڈیوز میں گاڑی کو دو مرتبہ اسی سڑک سے گزرتےدیکھا گیا، جبکہ دوسری مرتبہ گاڑی پر واضح نقصان بھی نظر آیا۔
گاڑی کی برآمدگی اور اہم ثبوت
تحقیقات کے دوران مشتبہ گاڑی ایک مقامی ورکشاپ میں مرمت کے لیے کھڑی ملی۔ جائے حادثہ سے ملنے والے ٹوٹے ہوئے شیشے اورہیڈ لائٹ کے ٹکڑے گاڑی کے خراب حصوں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے تھے، جس کے بعد پولیس نے گاڑی کو تحویل میں لے لیا۔
حیران کن طور پر جب پولیس 81 سالہ ملزم کے گھر پہنچی تو اس نے خود ایک پلاسٹک بیگ پیش کیا جس میں وہ شیشے کے ٹکڑےموجود تھے جو اس نے مبینہ طور پر حادثے کی جگہ سے اٹھا کر محفوظ کر لیے تھے۔
مقدمہ درج
81 سالہ مقامی رہائشی کے خلاف غیر ارادی قتل (روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں) اور جائے حادثہ سے فرار ہونے سمیت زخمی کیمدد نہ کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کیس اس وقت ابتدائی قانونی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔
شہر سوزارا کی کمیونٹی اس اندوہناک واقعے پر غمزدہ ہے اور محسن صدیقی کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے۔