اختلاف سے اتفاق تک — صحافت کی کامیاب پیش قدمی

تحصیل سرائے عالمگیر کی صحافتی تاریخ میں حالیہ دنوں ایک ایسا خوش آئند اور تاریخی باب رقم ہوا ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا،دو بڑی صحافتی تنظیموں — سرائے عالمگیر پریس کلب (HOJ) اور پریس کلب سرائے عالمگیرنے نہ صرف اپنے اپنے انتخابات مکمل کیے بلکہ باہمی خیرسگالی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دفاتر جا کر نومنتخب عہدیداران کو باقاعدہ مبارکباد پیش کی۔ اس مثبت پیش رفت میں الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کی شرکت نے اس اقدام کو مزید وقار اور وسعت عطا کی۔

یہ محض رسمی ملاقات نہ تھی بلکہ اس نے تحصیل سرائے عالمگیر کی صحافتی برادری میں باہمی احترام، برداشت اور اتحاد کی ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔ بلاشبہ اس فضا کے قیام کا سہرا سرائے عالمگیر پریس کلب (HOJ) کے صدر ارشد حسین قاضی اور انکے ممبران پریس کلب اور پریس کلب سرائے عالمگیر کے صدر محمد الیاس شامی اور انکے ممبران پریس کلب کے سر جاتا ہے، جنہوں نے ذاتی اور تنظیمی اختلافات سے بالاتر ہو کر صحافت کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی۔

اس موقع پر سابق صدر نوجوان صحافی احتشام راٹھور کا جذبۂ
خیرسگالی بھی خصوصی طور پر قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے صدارت کی دوڑ سے دستبردار ہو کر نہ صرف اپنی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ اصل معرکہ عہدوں کا نہیں، اقدار کا ہوتا ہے،اگر ان کی اس کاوش کا ذکر نہ کیا جائے تو یقیناً
یہ صحافتی دیانت کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ پریس کلب دو ہوں یا پانچ، صحافت کا
مقصد ایک ہی ہونا چاہیےکہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا،مظلوم کی آواز کو اربابِ اختیار تک پہنچانا،
قبضہ مافیا، بھتہ خوری اور سرکاری کرپشن کی نشاندہی کرنا،اور معاشرے میں سچائی اور شفافیت کو فروغ دیناہے مگر جب صحافتی ادارے اپنی توانائیاں باہمی رقابت، عہدوں کی کشمکش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف کرنے لگیں تو اصل مشن پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ صحافت کوئی ذاتی تشہیر کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے — ایسی امانت جس کا تعلق براہِ راست عوام کے اعتماد سے ہے۔

موجودہ پیش رفت اس اعتبار سے امید افزا ہے کہ اگرچہ سرائے عالمگیر پریس کلب (HOJ)، پریس کلب سرائے عالمگیر اور الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن اپنی اپنی تنظیمی شناخت رکھتے ہیں، مگر ایک دوسرے کو کھلے دل سے تسلیم کرنا اور اجتماعی مفاد میں ساتھ چلنے کا اعلان کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ صحافتی برادری پختگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ اتحاد اس بات کی نوید ہے کہ آئندہ تحصیل سرائے عالمگیر میں صحافی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور کسی بھی عوامی مسئلے پر مشترکہ آواز بلند کریں گے۔

صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو باخبر رکھنا ہے ،تازہ ترین واقعات، حالاتِ حاضرہ اور اہم پیش رفت سے آگاہ کرنا،اس کے ساتھ ساتھ سچائی اور حقائق کی تلاش، معلومات کی تصدیق، اور خبر کی غیر جانبدارانہ پیش کش وہ ستون ہیں جن پر صحافت کی عمارت قائم ہے،احتساب بھی اسی ذمہ داری کا اہم حصہ ہے،حکومتی اور دیگر بااثر اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور انہیں جواب دہ بنانا جمہوری معاشرے کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، صحافت عوامی رائے سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سماجی، سیاسی اور اقتصادی مسائل پر متوازن اور مستند معلومات فراہم کر کے یہ معاشرے کو باشعور بناتی ہے۔ ثقافت، ادب، کھیل اور تفریح جیسے موضوعات پر مثبت اور معیاری مواد کی فراہمی بھی اسی مشن کا حصہ ہے،
مختصراً، ایک صحافی کا اصل مقصد معاشرے میں سچائی، شفافیت اور آگاہی کو فروغ دینا ہے۔ اگر تحصیل سرائے عالمگیر کی صحافتی برادری اسی جذبے کے ساتھ متحد اور منظم رہی تو یقیناً یہ خطہ نہ صرف مثبت صحافت کی مثال بنے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔

یہ اتحاد وقتی نہیں بلکہ مستقل مزاجی کا متقاضی ہے،اگر نیتیں خالص اور ارادے مضبوط ہوں تو اختلافات بھی رحمت بن جاتے ہیں،آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھا جائے، کیونکہ مضبوط صحافت ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
میں آخر میں سرائے عالمگیر پریس کلب (HOJ)، الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن ، پریس کلب سرائے عالمگیر کے نومنتخب عہدیدران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں