نئی دہلی اور کابل پاکستان پر حملوں کے معاملے میں ایک ہی صفحے پر ہیں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا دعوی

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملے دراصل بھارت کی جانب سے چلائی جانے والی ایک “پراکسی وار” کا نتیجہ ہیں، جس میں کابل کی طالبان حکومت کی ملی بھگت بھی شامل ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ اگر مناسب شرائط طے پا جائیں تو پاکستان بین الاقوامی امن فورس میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور دارالحکومت اسلام آبا میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے بم دھماکے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ “تقریباً دہشت گردی کی تمام شاخیں” پاکستان میں موجود ہیں، جس کی وجہ کابل حکومت کی دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدگی کا فقدان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے محض عدم سنجیدگی نہیں بلکہ “ملی بھگت” کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کابل میں کوئی فریق امن کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہ ہوا تو پاکستان افغانستان میں نئے حملے کرنے سے “ہچکچائے گا نہیں”۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف “پراکسی جنگ” جاری رکھے ہوئے ہے اور کہا کہ نیو دہلی اور کابل پاکستان کو نشانہ بنانے کے معاملے میں “ایک ہی صفحے پر ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ جنگ اب بھی “ایک امکان” ہے۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی زیرِ غور نہیں
غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی استحکامی مشن میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امن فورس کے لیے کس نوعیت کی شرائط و ضوابط طے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یونائیٹڈ نیشن کے امن مشنز میں شرکت کا وسیع تجربہ حاصل ہے، اور غزہ میں کسی ممکنہ فورس میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی کوششوں کے لیے ایک “اچھا موقع” ثابت ہو سکتی ہے۔
متعدد مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے باوجود خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان اس آپشن پر “غور بھی نہیں کر رہا”، جب تک فلسطینیوں کو اپنی سرزمین میں دو ریاستی حل کے تحت حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور منصفانہ امن کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں