برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے چھوٹے بھائی، اینڈریو کو جمعرات کے روز سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے شبے میں اس الزام پر گرفتار کرلیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر حساس سرکاری دستاویزات جیفری ایپسٹین کو فراہم کی تھیں۔
اس ماہ کے آغاز میں تھیمز ویلی پولیس نے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کا جائزہ لے رہی ہے کہ سابق برطانوی شہزادہ ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے یہ دستاویزات ایپسٹین — جو اب وفات پا چکے ہیں اور ایک سزا یافتہ جنسی مجرم تھے — کو فراہم کی تھیں، جیسا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری فائلوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔
پولیس نے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’تھیمز ویلی پولیس نے سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے ایک مبینہ جرم کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا، ’’نورفک سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کی دہائی کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ پولیس حراست میں ہے۔‘‘ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ”قومی ہدایات کے مطابق گرفتار شخص کا نام جاری نہیں کیا جائے گا۔
برطانوی اخبارات نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ مشرقی انگلینڈ میں سینڈرنگھم اسٹیٹ کے وُڈ فارم پر—جہاں ماؤنٹ بیٹن وِنڈسر اب رہتے ہیں اور جمعرات کو اپنی 66ویں سالگرہ منا رہے ہیں—چھ بغیر نمبر پلیٹ کی پولیس گاڑیاں اور تقریباً آٹھ سادہ لباس اہلکار پہنچے تھے۔
سابق شہزادہ، جو ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے صاحبزادے ہیں، نےایپسٹین سے تعلق کے ضمن میں ہمیشہ کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس دوستی پر افسوس ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم تازہ ترین دستاویزات کے اجرا کے بعد سے انہوں نے کسی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اس پر بکنگھم پیلس نے بھی فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
سابق برطانوی شہزادے پر الزامات کیا ہیں؟
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن وِنڈسر کے خلاف کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب ’’بادشاہت مخالف مہم‘‘ اینٹی مونارکی تحریک گروپ ‘ریپبلک‘ نے انہیں پولیس کے سامنے رپورٹ کیا۔ یہ اقدام ایپسٹین سے متعلق 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات کے اجرا کے بعد کیا گیا۔ ایپسٹین کو 2008 میں ایک کم عمر لڑکی سے جنسی خدمات حاصل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
ان دستاویزات میں اشارہ دیا گیا ہے کہ 2010 میں ماؤنٹبیٹن وِنڈسر نے ویتنام، سنگاپور اور دیگر ممالک کے بارے میں رپورٹس—جہاں وہ سرکاری دوروں پر گئے تھے—ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کا الزام—جو ایک کامن لا جرم ہے اور تحریری قانون میں واضح طور پر درج نہیں—خصوصی نوعیت کی پیچیدگیاں رکھتا ہے۔
ایپسٹین اسکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے، اینڈریو پہلے ہی تمام اعزازات کھو چُکے ہیں۔ سابق شہزادے کو ونڈسر کاسل کی اپنی رہائش گاہ سے بھی نکلنا پڑا۔ ایپسٹین کا شکار ورجینیا جیوفرے نے اینڈریو پر متعدد بار جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا، بشمول جب وہ نابالغ تھیں۔ اینڈریو نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔
حال ہی میں جاری کردہ ایپسٹین فائلوں میں،برطانوی میڈیا نے ایسی ای میلز دریافت کیں جن میں بتایا گیا تھا کہ اینڈریو نے سزا یافتہ جنسی مجرم کو ہانگ کانگ، ویتنام اور سنگاپور کے سرکاری دوروں کی رپورٹس بھیجی ہیں۔ پولیس کی تفتیش کا خود بخود یہ مطلب نہیں ہے کہ اس نے جرم کیا ہے۔
ان الزامات نے ایک بار پھر شاہی خاندان کو شدید متاثر کیا ہے۔ بادشاہ چارلس سوئم نے اعلان کیا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے خلاف کسی بھی تحقیقات میں پولیس کا ساتھ دیں گے۔ محل کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا کہ بادشاہ پہلے ہی اپنے الفاظ اور بے مثال عمل کے ذریعے اپنے بھائی کے طرز عمل سے متعلق الزامات کے بارے میں اپنی گہری تشویش کو واضح کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ٹیمز ویلی پولیس ہم سے رابطہ کرے تو ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ شاہی جوڑے کے خیالات اور ہمدردیاں ہمیشہ کسی بھی زیادتی کا شکار ہونے والوں کے ساتھ ہیں۔