فرانسیسی عدالت نے 18 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ملوث تین ملزمان کو قید کی سزا سنا دی

فرانسیسی عدالت نے 2020 میں 18 سالہ لڑکی کے گینگ ریپ میں ملوث تین نوجوانوں کو قید کی سزائیں سنا دیں۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ نے اپنی بیٹی کے کیس کے ثبوت ایک پلاسٹک بیگ میں ایک سال تک محفوظ رکھے، جو فیصلے کا سبب بنے۔
مارچ 2020 میں مغربی فرانس میں مقیم ایک 18 سالہ لڑکی پیرس کے مضافاتی علاقے Champigny-sur-Marne میں دوستوں سے ملنے گئی۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق اسے کے دوست اُسے وہاں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ اسی دوران آٹھ نقاب پوش نوجوانوں نے کمرے میں داخل ہو کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق کئی نوجوانوں نے اسے مارا پیٹا، متعدد نے باری باری جنسی حملہ کیا جبکہ دیگر تماشائی بنے رہے ، یہاں تک کہ اس کے گردن پر وار نے اسے بے ہوش کر دیا۔
واقعے کے بعد لڑکی اپنی والدہ کو سب کچھ بتانے کے قابل تو تھی، لیکن پولیس سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نازک صورتحال کو سمجھتے ہوئے والدہ نے فوری طور پر بیٹی کی لیگیگنز اور انڈر گارمنٹس ایک پلاسٹک بیگ میں سیل کر کے محفوظ کر لیے، تاکہ ان پر موجود ممکنہ ڈی این اے شواہد محفوظ رہ سکیں۔
ایک سال بعد، جب لڑکی نے ہمت کر کے اپریل 2021 میں پولیس کے پاس شکایت درج کروائی، تو یہی محفوظ شواہد معاملے کا رخ بدلنے کا باعث بنے۔
محفوظ کردہ لباس کے ڈی این اے ٹیسٹ سے چار مختلف افراد کے جینیاتی نشانات سامنے آئے۔ اس بنیاد پر پولیس نے شواہد کو ملا کر مضبوط مقدمہ تیار کیا۔
پیرس کے مضافاتی علاقے کریتیل میں ایک عدالت نے کہا کہ اس نے دو مردوں ، جن کی عمر اس وقت 15 سال تھی، کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ایک اور شریک ملزم کو چھ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا فیصلہ سنایا گیا، جبکہ تین دیگر ملزمان کے خلاف بعد کی کسی تاریخ میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
فرانس میں یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فرانسیسی حکومتی کے تازہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ صرف 7 فیصد خواتین جنسی حملوں کے بعد قانونی شکایت درج کرواتی ہیں۔ درج شدہ کیسز میں سے 60 فیصد عدالت تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ نومبر میں ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق، 10 میں سے 6 مقدمات کو عدالت میں جانے کے لیے ثبوت کے اعتبار سے کافی مضبوط نہیں سمجھا جاتا ہے، اگر متاثرہ فرد نابالغ ہے تو ایسے مقدمات 10 میں سے 7 تک پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی متاثرہ کم عمر ہو تو 70 فیصد کیسز خارج کر دیے جاتے ہیں۔
یہ تازہ ترین کیس اس تناظر میں ایک اہم مثال ثابت ہوسکتا ہے کہ ثبوت محفوظ رکھنے اور خاندانی تعاون سے کس طرح انصاف ممکن ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں