لزبن، پرتگال کے آج ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مرکز‑بائیں بازو کے امیدوار António José Seguro نے سخت دائیں بازو کے امیدوار André Ventura کو بھاری مارجن سے شکست دے کر پرتگال کے نئے صدر منتخب ۔

نتائج کے مطابق تقریباً 64 فیصد ووٹس Seguro نے حاصل کیے، جبکہ Ventura کو 36 فیصد ووٹ ملے۔ ابتدائی نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جیت ایک بڑی مارجن (landslide victory) کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس میں پرتگالی عوام نے اعتدال پسند اور مرکز‑بائیں بازو کی سیاست کو مضبوطی دی ہے۔
انتخابی منظرنامہ اور پس منظر
8 فروری 2026 کا دوسرا مرحلہ یا runoff تھا، کیونکہ جنوری میں ہوئے پہلے مرحلے میں کسی امیدوار نے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کیے تھے۔ پہلے مرحلے میں Seguro کو 31 فیصد ووٹ ملے، جبکہ Ventura کو 23.5 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔
یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ تقریباً 40 سال بعد پہلی بار presidential runoff تھا، جو ظاہر کرتا ہے کہ پرتگالی سیاست میں مختلف سیاسی دھڑوں کی حمایتیں کس قدر تقسیم ہو گئی ہے

António José Seguro، جو سوشلسٹ پارٹی (PS) کے امیدوار ہیں، نے اپنی مہم میں استحکام، جمہوری اداروں کے تحفظ اور سیاسی اتحاد کو مرکزی نکتہ بنایا۔ ان کی فتح کو پرتگال میں اعتدال پسند سیاست کی مضبوط واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
André Ventura، Chega پارٹی کے سربراہ اورسخت دائیں بازو کے رہنما، نے انتخابی مہم میں سخت موقف، سرحدی پابندیاں اور مخالفین پر تنقید کو زور دیا، لیکن دوسرے مرحلے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرتگالی عوام نے ایک بار پھر مرکزی اور اعتدال پسند سیاست کو ووٹ دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپ کے دیگر ممالک میں سخت سیاسی رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔
صدر کا عہدہ پرتگال میں زیادہ تر نمائشی (ceremonial) ہے، لیکن اس کے پاس پارلیمنٹ تحلیل کرنے، قانون پر ویٹو لگانے اور انتخابات دوبارہ بلانے جیسے اختیارات بھی موجود ہیں۔
انتخابات کے اثرات
• Seguro کی فتح: بائیں بازو/مرکزی سیاست کی مضبوطی اور معتدل پالیسیوں کی حمایت۔
• Ventura کے ووٹ: سخت دائیں بازو کا مضبوط ووٹ بینک، مستقبل میں سیاسی اثر رکھنے کی صلاحیت۔
پارٹی سیاست: Chega پارٹی حال ہی میں پارلیمنٹ میں دوسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔
یہ واضح فتح پرتگالی عوام کے اعتدال پسند اور مستحکم سیاسی ماحول کی ترجمانی کرتی ہے، اور اگلے چند سالوں میں ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر اثر ڈال سکتی ہے