سفارتخانہ پاکستان بارسلونا : کریکٹر سرٹیفکیٹ اور اوورسیز پاکستانیوں کی تذلیل

سفارتخانہ پاکستان بارسلونا : کریکٹر سرٹیفکیٹ اور اوورسیز پاکستانیوں کی تذلیل

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر بات کرنا اب محض ایک رسمی روایت بن چکی ہے۔ ہر حکومت آتی ہے، بلند بانگ دعوے کرتی ہے، کنونشن منعقد کرتی ہے اور تصویریں بنوا کر رخصت ہو جاتی ہے، مگر اوورسیز پاکستانی وہیں کے وہیں کھڑے رہ جاتے ہیں بے آواز اور بے سہارا۔
بارسلونا میں ہونے والے حالیہ کنونشنز اس نمائشی سیاست کی واضح مثال ہیں۔ اسٹیج پر تقاریر ہوئیں، وعدے دہرائے گئے، مگر اسٹیج سے اترتے ہی اوورسیز پاکستانیوں کے حقیقی مسائل ایک بار پھر فائلوں میں دفن ہو گئے۔ اگر ان تقریبات کا مقصد واقعی سہولت فراہم کرنا تھا تو آج بھی بنیادی دستاویزات کے لیے اوورسیز پاکستانی ذلیل و خوار کیوں ہیں؟

سفارتخانہ پاکستان بارسلونا کے باہر کا منظر ان دنوں غیر معمولی ہے، اور اس کی ایک ٹھوس وجہ بھی ہے۔ اسپین کی حکومت کی جانب سے امیگریشن کے عمل کے دوبارہ کھلتے ہی یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ درخواست گزار اپنے ملک کا کریکٹر سرٹیفکیٹ فراہم کرے۔ اس ایک شرط نے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو سفارتخانۂ پاکستان بارسلونا کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شدید سردی، یخ بستہ ہوائیں اور کم درجۂ حرارت میں اوورسیز پاکستانی گھنٹوں بلکہ دنوں تک لائنوں میں کھڑے نظر آتے ہیں—ہاتھوں میں فائلیں، جسم کپکپاہٹ کا شکار اور آنکھوں میں مستقبل کی بے یقینی۔
اس رش اور اذیت کو مزید سنگین بنا دیتا ہے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے اتھارٹی لیٹر جیسا فرسودہ، غیر منطقی اور تذلیل آمیز نظام۔ اسپین کی امیگریشن پالیسی نے تو صرف ایک دستاویز طلب کی ہے، مگر ہمارے اپنے نظام نے اس ایک کاغذ کو اذیت ناک مرحلے میں بدل دیا ہے۔ ہزاروں پاکستانی نوجوان محض اتھارٹی لیٹر بنوانے کے لیے سفارتخانۂ پاکستان بارسلونا کے باہر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل دور میں اس شرط کی کوئی عقلی یا انتظامی توجیہہ موجود نہیں۔

اوورسیز کی وزارت کا قیام ایک امید کی علامت تھا، مگر بدقسمتی سے یہ امید روز بروز مایوسی میں بدل رہی ہے۔ وفاقی وزیر اور ان کی ٹیم بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ فون بند، رابطے منقطع اور رویّے سرد—شاید سفارتخانوں کے باہر کے موسم سے بھی زیادہ۔
یہ صورتحال محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ قومی وقار کا سوال ہے۔ جب بیرونِ ملک پاکستانی اپنی ہی ریاست سے مایوس ہوں گے تو دنیا میں پاکستان کا تشخص کیسے بہتر ہوگا؟ ہسپانوی سوشل میڈیا پر پاکستانی کمیونٹی کا مذاق اسی خلا کا نتیجہ ہے—جہاں قیادت خاموش اور نظام بے حس ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ نام نہاد قیادت کے خوابِ غفلت کو توڑا جائے۔ اوورسیز پاکستانی کسی خصوصی رعایت کے طلبگار نہیں، وہ صرف اپنے بنیادی، جائز اور آئینی حقوق مانگ رہے ہیں۔ کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے اتھارٹی لیٹر جیسے فرسودہ نظام کا فوری خاتمہ ایک سادہ مگر انتہائی علامتی قدم ہو سکتا ہے، جو ریاست اور اوورسیز پاکستانیوں کے درمیان ٹوٹتے اعتماد کو بحال کرنے کی سمت پہلا قدم ثابت ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کنونشنز اور تقاریب کے بجائے عملی اصلاحات کی جائیں۔ سفارتخانوں کو سہولت مراکز بنایا جائے، آزمائش گاہیں نہیں۔ بیوروکریسی کی غیر ضروری پیچیدگیاں ختم کی جائیں اور اوورسیز پاکستانیوں کو واقعی ریاست کا حصہ تسلیم کیا جائے۔

اوورسیز پاکستانی محض زرِ مبادلہ بھیجنے والے نہیں، وہ پاکستان کا چہرہ، آواز اور وقار ہیں۔ اگر وہ سفارتخانوں کے باہر سردی میں ٹھٹھرتے رہے تو یہ سردی صرف موسم کی نہیں، بلکہ ہمارے ریاستی رویّوں کی علامت بن جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں