پیرس کی گلیوں کا خاموش ہیرو

پیرس میں گذشتہ پچاس برس تک اخبار بیچنے والے پاکستانی نژاد علی اکبر فرانس کے نیشنل آرڈر آف میرٹ کے حقدار ٹھہرے
پیرس کی تنگ و پیچیدہ گلیوں میں اگر کبھی صبح سویرے ایک مخصوص آواز گونجتی سنائی دے، اخباروں کی خوشبو فضا میں پھیلتی محسوس ہو اور ایک مانوس سی مسکراہٹ راہگیروں کا استقبال کرے، تو سمجھ لیجیے یہ علی اکبر ہیں۔ وہ علی اکبر جو پچھلے پچاس برس سے پیرس کے دل میں اخبار فروشی کو صرف روزگار نہیں بلکہ ایک تہذیبی روایت بنائے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں اسی خاموش محنت اور تہذیبی خدمت کے اعتراف میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پاکستانی نژاد اخبار فروش علی اکبر کو فرانس کے اعلیٰ سول اعزاز نیشنل آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ اعزاز فرانس میں سول اور عسکری خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، اور کسی تارکِ وطن محنت کش کے حصے میں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عزت سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔


73 سالہ علی اکبر کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ غربت ان کے بچپن کی مستقل ساتھی رہی۔ 1953ء میں جنم لینے والے علی اکبر نے صرف بارہ برس کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا۔ حالات نے تعلیم چھین لی، مگر سیکھنے کی خواہش نہیں چھینی۔ انہوں نے محنت مزدوری کے مختلف کام کیے، خود پڑھنا لکھنا سیکھا، اور پھر ایک ایسا سفر شروع کیا جو صرف جغرافیہ کا نہیں بلکہ حوصلے اور خوابوں کا سفر تھا۔
راولپنڈی سے نکل کر افغانستان، ایران اور یونان کی سرحدیں عبور کرتے ہوئے 1973ء میں علی اکبر پیرس پہنچے۔ یہ وہ پیرس تھا جو سیاحوں کے لیے خوابوں کا شہر اور مہاجر کے لیے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ مگر علی اکبر نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اخبار فروشی کو اپنایا اور رفتہ رفتہ سینٹ جرمین دے پری جیسے معروف علاقے میں Le Monde اور Les Echos جیسے بڑے اخبارات فروخت کرنے لگے۔

وقت کے ساتھ شہر بدلتا گیا، ڈیجیٹل دور آیا، کاغذی اخبارات سکڑتے گئے، مگر علی اکبر اپنی جگہ ڈٹے رہے۔ آج انہیں فرانس کا آخری روایتی اخبار فروش کہا جاتا ہے۔ وہ صرف اخبار نہیں بیچتے، وہ گفتگو بیچتے ہیں، مسکراہٹ بانٹتے ہیں، اور پیرس کی صبحوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان کی مخصوص آواز، شائستہ انداز اور مستقل مزاجی نے انہیں پیرس کے باسیوں میں بے حد مقبول بنا دیا ہے۔
علی اکبر کی کہانی دراصل تارکینِ وطن کی اس خاموش جدوجہد کی نمائندہ ہے جو اکثر خبروں کی سرخی نہیں بنتی۔ وہ نہ کسی سیاسی منصب پر فائز رہے، نہ کسی بڑی کمپنی کے مالک بنے، مگر انہوں نے نصف صدی تک ایک شہر کی ثقافت کا حصہ بن کر دکھایا۔ شاید اسی لیے فرانس نے انہیں صرف ایک اخبار فروش نہیں بلکہ ایک ثقافتی علامت کے طور پر تسلیم کیا۔
یہ اعزاز صرف علی اکبر کا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو محنت، وقار اور استقامت کے ساتھ زندگی کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ پیرس کی گلیوں میں اخبار بیچنے والا یہ شخص ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی شہرت میں نہیں، تسلسل میں ہوتی ہے—اور کبھی کبھی تاریخ کے اوراق میں جگہ بنانے کے لیے قلم نہیں، صرف ایماندار محنت ہی کافی ہوتی ہے۔