میڈیا، تہذیب اور اخلاقی اقدار


ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے ذائقہ کی ترجیحات اور میڈیا کی طاقت کے درمیان ایک نازک کشمکش میں جکڑے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں چند لمحوں کی توجہ اور چند لائکس کی دوڑ نے ایسے رجحانات جنم دیے ہیں جو کبھی صرف نجی محفلوں تک محدود تھے، اب قومی میڈیا کے پردوں پر جلوہ گر ہیں اور افسوس کے ساتھ، فحاشی اور عریانی کو ایک عام ضرورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گویا یہ معاشرتی ذائقہ کا نیا معیار بن چکا ہو۔
یہ سب اتفاق نہیں سوشل میڈیا کے الگورتھمز انسانی فطرت کی کمزور رگوں پر ہاتھ رکھتے ہیں؛ جو انسانی نگاہ کو زیادہ دیر ٹھہرا لے،خواہ وہ نفسانی کشش، فحاشی یا تصادم کی آگ ہو اسی کو نمایاں کر دیا جاتا ہے
جب یہی رجحان بڑے میڈیا چینلز میں آتا ہے، تو وہ بھی ناظرین کی توجہ کے پیچھے بھاگتے ہوئے انہی موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
نتیجہ میں ایک خطرناک فیڈ بیک لوپ بنتا ہے،میڈیا پبلک کے ذائقے کو ڈھالتی ہے، اور پبلک میڈیا کے مواد کو،
لیکن مسئلہ صرف میڈیا یا عوام کا نہیں بلکہ ہماری تعلیمی و خاندانی تربیت، ثقافتی آگاہی اور اخلاقی بیداری کی کمی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب اخلاقی تربیت کمزور ہو، نوجوان نئی نسل اس مواد کو ناپسندیدہ نہیں بلکہ معیارِ ذائقہ کے طور پر قبول کر لیتی ہے،یوں معاشرتی اقدار کی زمین پر چھوٹے مگر گہرے دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔
یہاں اصلاح کی ضرورت سب سے زیادہ ہےحل ممنوعات یا سخت پابندیوں میں نہیں، بلکہ تربیت، شعور اور مثبت میڈیا کے فروغ میں مضمر ہے۔ چند رہنما اصول معاشرے کو سنبھالنے میں مددگار ہو سکتے ہیں
1 : تعلیمی و فکری بیداری: اسکولوں اور کالجز میں میڈیا لٹریسی، تنقیدی سوچ اور اخلاقی شعور کی تعلیم لازمی بنائی جائے تاکہ نوجوان اپنی بصیرت سے انتخاب کریں
2 : خاندانی تربیت: والدین اور بزرگ معاشرتی اقدار کی بنیاد فراہم کر کے بچوں کو مثبت اور معیاری مواد کی طرف راغب کریں
3 : میڈیا کی اخلاقی ذمہ داری: صرف ریٹنگ یا ویوور شپ کی دوڑ کے بجائے، میڈیا کو معیار اور مقصد کو ترجیح دینی چاہیے
4 : شعوری سوشل میڈیا کا استعمال: صارفین کو اپنی دلچسپی اور رویوں پر غور کرنا ہوگا تاکہ الگورتھمز کے اثرات کم ہوں اور معیارِ ذائقہ بہتر ہو
یہ بات واضح ہے کہ میڈیا اور پبلک کے درمیان تعلق محض تجارتی یا تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشرتی اقدار، ثقافت اور نسلِ نو کی تربیت کا معاملہ ہے،
اگر ہم آج اس فیڈ بیک لوپ کو توڑنے کے لیے سنجیدہ کوشش کریں، تو کل ہمارا معاشرہ نہ صرف معلوماتی بلکہ اخلاقی، ثقافتی اور جمالیاتی طور پر بھی مضبوط اور صحت مند ہو سکتا ہے،
آخر میں، یہ ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رویے، ذوق اور دیکھنے کی عادات پر غور کرےاس طرح ہر مثبت انتخاب معاشرے کے ذائقہ کو بہتر بنا سکتا ہے، اور ہر ناپسندیدہ رویہ اس توازن کو بگاڑ سکتا ہےاور یہی چھوٹے قدم کل کے بڑے فرق کی بنیاد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں