خود احتسابی/ شوکت علی
ریڈیو ہموطن/کوپن ہیگن، ڈنمارک
“پہلی پِیڑ” کی تقریبِ رونمائی
کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں مقیم پنجابی زبان کے ایک بہت بڑے شاعر ظفر اعوان کے مجموعی طور پر دسویں اور پنجابی کے ساتویں شعری مجموعے “پہلی پِیڑ” کی تقریب رونمائی ادبی تنظیم بیلی کے تخت منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے ڈائریکٹر سید عامر جعفری اور اردو پنجابی شاعر ڈاکٹر طاہر شہیر تھے۔ ڈاکٹر طاہر شہیر نے اپنے مزاحیہ پنجابی و اردو کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ کوپن ہیگن سے جن شعراء نے محفل میں اپنا کلام پیش کیا ان میں عدیل آسی، نصر ملک، عمران سیفی، کامران اعظم، فواد کرامت، اقبال اختر صاحب شامل تھے۔ قنبر کیانی نے ظفر اعوان کی ہی کتاب “پہلی پِیڑ” سے “سلام” پیش کیا اور اپنا پنجابی کلام بھی سنایا جس نے اس لیے حیران کیا کہ میں انھیں ایک نعت خواں ہی سمجھتا تھا لیکن وہ ایک شاعر بھی نکلے۔
ظفر اعوان کے فن اور شعری تخلیقات کی بات کی جاۓ تو انھوں نے مختصر مدت میں اپنی اردو و پنجابی شعری مجموعوں سے ایک دھاک بٹھا دی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت انکو ملنے والے بیشمار ادبی ایوارڈز ہیں۔ اگر انکے فن کی نوعیت کے اعتبار سے بات کریں تو ہم انھیں ترقی پسند شاعروں کے زمرے میں شمار کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کلام کے پہلو سے خواب و خیال کی گل پوش وادیوں میں گھومنے کی بجاۓ زندگی کی تلخ اور بدصورت سچائیوں پر احتجاج بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بدصورتی معاشرتی رویوں میں ہوں یا پھر سیاست و مذہب میں اسکے کلام کے نشتر سے بچ نہیں پاتے۔ ظفر اعوان میں ایک بڑا شاعر ہونے کے تمام گُن پاۓ جاتے ہیں۔ وہ شدتِ احساس اور تیز مشاہدے کا مالک ہے۔ اس کی انگلی معاشرے کی نبض پر ہے اور وہ اسکی بیماریاں کی تشخیص کرتا جا رہا ہے۔ اپنے نئے شعری مجموعے کے عنوان “پہلی پِیڑ” پر کہے گئے اشعار میں وہ یتیمی کے دکھوں اور زخموں سے پردہ اٹھاتا دکھائی دیتا ہے کہ کس طرح معاشرہ ایک بے یارومددگار اور بے آسرا رہ جانے والے بچے کا استخصال اس بے رحمی سے کرتا ہے کہ استاد جو کام سکھاتا ہے، استاد جسے معاشرہ باپ کا درجہ دیتا ہے وہ ہی اسکا جنسی استخصال کرتا ہے۔ ظفر اعوان کے کلام میں ارسطو کے المیے کی تعریف کی جھلک نظر آتی ہے۔ یتیمی ایک المیہ ایک ٹریجڈی ہی تو ہے جو قاری کے دل میں رحم اور خوف کے جذبات پیدا کرتی ہے کہ خدا کسی کو یتیم نہ کرے، کسی کو بے آسرا اور بے یارومددگار نہ چھوڑے۔ تنہا اور یتیم رہ جانے کے المیے کی تصویر کشی ظفر اعوان نے درج ذیل اشعار میں کی ہے جن کے اختتام پر یتیم خدا سے پیدا کر کے تنہا چھوڑ دینے کا گلہ کرتا ہے جو دراصل خدا سے انسانوں کی شکایت ہے کہ افرادِ معاشرہ اسکے حقوق کی پامالی کر رہے ہیں اور اب اسے خود ہی زمین پر آکر ایک یتیم کی مدد و حمایت اور حقوق کی بحالی کا کام سر انجام دینا پڑے گا۔
جے پیدا کر دِتا سی تے
تھوڑا سہی پر ساتھ تے دیندوں
چھوٹی عمر یتیم نہ کر دوں
بھاویں مالک رازق تُوں ایں
ماڑے لئی تو خالم خالی
ساڈے ہتھیں رِسدے چھالے
نِکی عمرے مونہہ تے کالک
چپ نہ وٹ دا تے کیہ کردا؟
جتھے ماں نے کم تے پایا
جس نوں جگ پیو ورگا آکھے
اوہنے میرے کپڑے لاہے
پیڑ کیہ ہوندی دے کے دسیا
کچے ہڈاں درد ہنڈاۓ
مر مر جین دے ول سکھاۓ
اس ویلے دس توں، کتھے ایں؟
تینوں کُوکاں مار بلایا
فِروی ربا، توں نہ آیا
جے پیدا کر دِتا سی تے
تھوڑا سہی پر ساتھ تے دیندوں (پہلی پِیڑ)
ظفر اعوان کے ان اشعار میں ترفع کا عنصر پایا جاتا ہے۔ جب ظفر اعوان اپنا یہ کلام پیش کر رہا تھا تو میرا دھیان خدا کے الہامی پیغام قرآن میں یتیم کے حقوق کی حفاظت و نگہداشت کی طرف چلا گیا۔ سورہ النسا کے آغاز میں انسان کی تخلیق نفس واحدہ سے ایک مرد و عورت کی تخلیق کا ذکر کیا ہے اور اسکے فورا بعد یتیم کے حقوق بیان کرنے شروع کر دیے جس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ جب تمام ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں اور تم ایک انسانی خاندان ہو تو پھر معاشرے میں کسی کے یتیم یعنی بے آسرا رہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ افرادِ معاشرہ کو اس یتیم کے حقوق کی حفاظت بلکل گھرانے کے فرد کی طرح کرنا ہوگی۔ ظفر اعوان کے کلام میں sublimation کا یہ پہلو اسے ایک بڑا شاعر بناتا ہے۔ وہ کسی متشاعر کی طرح لغو اور سطحی موضوعات پر تُک بندی نہیں کرتا بلکہ انسانی معاشرے میں رونما ہونے والے المیہ واقعات پر ماتم و احتجاج کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ظفر اعوان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قاری کے میلانات کے برعکس اپنی فکر اور نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ شاعری کرتا ہے۔ لوگ اسے بڑا اور مقبول شاعر بننے کے لیے ،جو اپنی پاپولر شاعری سے چار پیسے کما کر کوٹھی بنگلے بنوا لیتے ہیں، پنجابی زبان سے ہٹ کر شاعری کرنے کی “صلاحاں” دیتے نظر آتے ہیں لیکن وہ اس طرح کا “وڈا شاعر” بننے سے انکار کر دیتا ہے جو اسے اسکی “ماں بولی” یعنی پنجابی سے دور کر دے۔ یہ بات ظفر اعوان کے بلند کردار کی بھی نشانی ہے جو مادی فائدے کو اپنی فکر پر قربان کرنے سے نہیں گھبراتا اور اپنے ایسے دوستوں کو گھن گرج کر کہتا ہے
رب دا ناں جے ہور نہ بولو
ہر اک گل دی سمجھ اے مینوں
پینڈو آں پر جاہل نہیں میں
ایہو اصلی ورتوں میری
مترو مینوں ہون دو ضائع
ماں بولی دے اکھراں دے وچ
مینوں ماں نظریں آندی اے
میں نہیں بننا وڈّا شاعر
میں تے ماں دا پُت بننا ایں (وڈا شاعر)
ظفر اعوان کے کلام میں مزاحمتی شاعری بہت نمایاں ہیں اور وہ ان موضوعات پر بھی فکر زنی کرنے سے باز نہیں رہتا جن کے متعلق آجکل تنہائی میں سوچتے ہوۓ بھی “ادبی کوڈے” کانپ اٹھتے ہیں۔ پاکستان کی بدقسمتی کا آغاز اسی دن سے ہوگیا جس دن مادرِ وطن کی سرزمین کو امریکی استعمال میں دینے کا فیصلہ عوام کو لاعلم رکھتے ہوۓ کر دیا گیا۔ عوام کو تو چھوڑیں اس ملک کی سیاسی قیادت تک اس بات سے لاعلم تھی کہ پاکستان نے کوئی فوجی اڈہ امریکنوں کو دے رکھا ہے اگر کسی کو علم تھا تو وہ پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب تھے۔ اس بات کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب پشاور کے فوجی اڈے بڈھ بیر سے اڑنے والے امریکی جاسوس طیارے کا روس نے مار گرایا۔ ہم اس قومی سانحے سے آج تک اپنی جان نہیں چھڑا سکے جس کا رونا آج کی نسل کے شاعر ظفر اعوان کو رونا پڑ رہا ہے۔ یہ سب کچھ کس لیے تھا؟ صرف اور صرف پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے امریکی ڈالروں کی ترسیل جاری رہے۔ یہ روش ہماری سول و فوجی اشرافیہ کا کردار بن چکی ہے اسی لیے تو ظفر اعوان اپنے قلم کو نشتر بناتا ہے اور جان لیوا اخلاقی پستی کے امراض میں مبتلا اس قومی کردار پر چیرا لگاتا ہے تاکہ اس کے اندر بہت اندر تک چھپے موذی امراض کی تشخیص کر سکے اور پھر اس کا علاج عوام کی فکر پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ “ادبی کوڈے” جو اس احتسابی فکر سے توبہ اور مصلحت سے کام لینے کی بات کرتے ہیں ان کی چھوٹی سوچ و فکر سے بغاوت کرتے ہوۓ اپنی آزادانہ سوچ و فکر کی ہی راہ پر چلتے رہنے کا اعلان کرتا ہے۔ وہ راہ جس پر چلنے کو آج کل ریاست مخالف بیانیے کا نام دے کر وطن دشمن، فوج دشمن اور نجانے کیا کیا قرار دے کر انجام سے ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وطن کی فکر اور محبت میں مبتلا لوگوں کی کردار کشی کر کے انھیں نیچ کردار اور خود کو بلند کردار ثابت کرنے والے “ادبی کوڈے” ظفر اعوان کے قد کاٹھ کو چھوٹا نہیں کر سکتے جو جبر و فسطائیت کے اندھیروں میں حق کی شمع اٹھاۓ تاریکیاں دور کرنے پر بضد ہے۔
میں اوس دیا چ رہنا مترو
جتّھے وقت نوں پیسہ
نہیں نہیں بلکہ ڈالر کہندے
اوہو ڈالر جس دے اک دا
تِن سو نالوں ودھ بن دا اے
جس دے پِچّھے
دنیا پاگل ہوئی پھردی
جس نوں پان لئی
اُچّی نیویں تے وچکاری
ہر اک ذات دے بچیاں بچے
ٹک ٹاکوں تے ننگے نچّن
اوہو ڈالر جس دی خاطر
پاک وطن دے کرنل جرنل
نِکے وڈّے سبھّے لیڈر
لوکاں نوں مرواون دے لئی
فوجی اڈے دے دیندے نیں
میں تے ایتھوں تک سُنیا اے
پاکستانی ڈالر پونڈ ریالاں خاطر
ماں دا سودا کر دیندے نیں
پر میں اک پردیسی شاعر
نیندر کولوں وقت چُرا کے
پیسے والی دوڑنوں چھڈ کے
دیس دے رونے رونداں رہناں
اکھّر ہنجواں وِچ ڈبو کے
غزلاں کہناں نظماں لکھنا
پر کجھ بابے
تے پردھان اکھوا والے
ادبی کوڈے
ہوند میری توں ڈردے پئے نیں
مینوں چھوٹا کر دے پیے نیں (ادبی کوڈے)
ظفر اعوان کی پاکستان میں جبر و فسطائیت کی فضا پر “پریس کانفرنس” کے عنوان سے ایک ہجو بھی لکھتا ہے جس میں پاکستان میں ایک انتہائی مضحکہ خیز روش اختیار کی گئی کہ پاکستان کی ایک بہت بڑی سیاسی پارٹی پی ٹی آئی کے ارکان ایک “پریس کانفرنس” کرتے تھے اور غداری کے مقدمات سے بری قرار دے دیے جاتے تھے۔ ظفر اعوان نے اس صورتحال کی اشعار میں ایسی تصویر کشی کی جس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے پاکستان کوئی قبر ہو اور ہم سب مردے جن کا حساب کتاب باوردی فرشتے لے رہے ہیں اور جنت میں جانے کی شرط یہ ہے کہ جو ان باوردی فرشتوں کی مان کر “پریس کانفرنس” میں توبہ کر لے گا اسکے لیے تو پاکستان جنت بن جاۓ گا اور جو اس سے انکار کرے گا پاکستان کو اسکے لیے جہنم بنا دیا جاۓ گا۔
پرسوں میرے نال کیہ ہویا
سفنے دے وچ مَیں سی مویا
قبر انھیری وچ میں کلا
رو رو کے ہویا سی جھلا
ٹُٹّے جد آساں دے رِشتے
وردی وِچ آۓ فِرشتے
اوہناں میرا ڈر مُکایا
نالے ایہ فرماں سنایا
ظفری جے توں جانا جنت
نو مئی دی کر مذمت
ظفر اعوان اپنے قلم سے جس تنقیدی سوچ و فکر کا پرچار کر رہا ہے وہ آج پاکستانیوں کے لیے وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکی ہے۔ معاشرے میں انقلابی تبدیلی فرسودہ خیالات کی بیخ کنی سے ہی ممکن ہے اور ظفر اعوان اس مشن پر گامزن ہے اور یہ سب وہ اسوقت کر رہا ہے جب جبر نے ہر طرف قبرستان کا سا سناٹا پیدا کرنا شروع کر دیا ہے لیکن ظفر اعوان اپنے کلام سے قبرستان میں صور پھونکنے کی کوشش میں مصروف ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم بیدار ہوتے ہیں یا خوابِ غفلت کے مزے لوٹتے رہتے ہیں۔
