قانون کی لاش پر کھڑی ریاست

جب ریاست خود قانون توڑنے لگے تو پھر مجرم اور محافظ میں فرق ختم ہو جاتا ہے۔ پنجاب میں سی سی ڈی کے نام پر ماورائے عدالت قتل دراصل صرف چند افراد کی جان لینے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ آئین، انصاف اور ریاستی اخلاقیات کے قتل کا اعلان ہے۔ جرم کے خلاف جنگ کے نام پر اگر عدالتوں کو بائی پاس کر دیا جائے تو پھر یہ جنگ نہیں، کھلی بربریت ہے۔

یہ کیسا انصاف ہے جہاں فیصلہ بندوق کرتی ہے اور عدالت تماشائی بنی رہتی ہے؟ آئینِ پاکستان واضح کہتا ہے کہ زندگی کا حق مقدس ہے اور سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے۔ لیکن یہاں قانون کو روند کر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ طاقتور ادارے چاہیں تو کسی کو بھی “مجرم” قرار دے کر مار سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مجرم ہونے کا سرٹیفکیٹ کس نے دیا؟ کیا کوئی عدالت بیٹھی؟ کیا کوئی ٹرائل ہوا؟ یا صرف وردی ہی کافی ثبوت بن گئی؟
ماورائے عدالت قتل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ وقتی طور پر عوام کو مطمئن ضرور کرتا ہے، مگر مستقل طور پر معاشرے کو برباد کر دیتا ہے۔ آج جسے مقابلے میں مارا جا رہا ہے، کل وہی طریقہ سیاسی مخالف، صحافی، یا کسی بےآواز شہری کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ جب ریاست خود غیرقانونی قتل کو پالیسی بنا لے تو پھر کسی شہری کی جان محفوظ نہیں رہتی۔
یہ دلیل دینا کہ عدالتیں سست ہیں، ایک کھوکھلا جواز ہے۔ اگر عدالتیں کمزور ہیں تو انہیں مضبوط کریں، اگر تفتیش ناقص ہے تو اسے بہتر بنائیں۔ قانون کو مار دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ انصاف کی لاش پر کھڑی ریاست زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہ سکتی۔

پولیس اور تحقیقاتی ادارے جج نہیں ہوتے۔ ان کا کام گرفتاری اور ثبوت اکٹھا کرنا ہے، نہ کہ فیصلے سنانا۔ جو ریاست اپنے اداروں کو جلاد بنا دے، وہ دراصل اپنے ہی شہریوں کے خلاف اعلانِ جنگ کرتی ہے۔
جرم کے خاتمے کے لیے قانون توڑنا ایسا ہی ہے جیسے آگ بجھانے کے لیے پورا شہر جلا دیا جائے۔ اگر واقعی ہم ایک مہذب، آئینی اور محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ایک بات واضح کرنی ہوگی
مجرم کو سزا عدالت دے گی، بندوق نہیں۔
ورنہ تاریخ گواہ ہے، قانون توڑنے والی ریاستیں آخرکار خود ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔