2024 میں تقریباً 50 ہزار خواتین اور لڑکیاں اپنے شریکِ حیات یا خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں قتل

ہر 10 منٹ میں ایک عورت یا لڑکی قتل ہو جاتی ہے، اقوام متحدہ
صرف 2024 میں تقریباً 50 ہزار خواتین اور لڑکیاں اپنے شریکِ حیات یا خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ یو این ویمن کا کہنا ہے کہ اس جان لیوا رجحان کو روکنے میں کوئی حقیقی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی پیر کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 منٹ میں ایک عورت یا لڑکی قتل ہو جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار دنیا بھر میں خواتین کے قتل کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ صرف 2024 میں تقریباً 50 ہزار خواتین اور لڑکیاں اپنے شریکِ حیات یا خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ یو این ویمن کا کہنا ہے کہ اس جان لیوا رجحان کو روکنے میں کوئی حقیقی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔
منشیات اور جرائم کے خلاف اقوامِ متحدہ کے دفتر اور یو این ویمن کی 2025 کی فیما سائیڈ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے ان قتلِ عام کو روکنے کے حوالے سے اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
اقوامِ متحدہ نے بتایا کہ اس رپورٹ کا اجرا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال ہزاروں خواتین اور لڑکیاں قتل
رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران لگ بھگ 83 ہزار خواتین اور لڑکیاں عمداﹰ قتل کی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 60 فیصد، یا 50 ہزار، اپنے شریکِ حیات یا خاندان کے افراد کے ہاتھوں مار دی گئیں۔
یہ تناسب اس اعداد و شمار کے برابر ہے کہ ہر 10 منٹ بعد ایک عورت یا لڑکی اپنے کسی قریبی شخص کے ہاتھوں قتل ہوتی ہے۔
اس کے مقابلے میں اقوامِ متحدہ کے مطابق مردوں کے 11 فیصد قتل ایسے ہوتے ہیں جو ان کے شریکِ حیات یا خاندان کے افراد کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں۔
منشیات اور جرائم کے خلاف اقوامِ متحدہ کے دفتر کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر جون برانڈولینو نے کہا، ”دنیا بھر میں بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے لیے گھر اب بھی خطرناک اور کبھی کبھار جان لیوا جگہ ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ”دو ہزار پچیس کی فیما سائیڈ (خواتین کے قتل) رپورٹ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ہمیں فیما سائیڈ کی روک تھام اور اس پر موثر عدالتی حکمتِ عملی اپنانے کی شدید ضرورت ہے۔‘‘
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ٹیکنالوجی نے بعض اقسام کے تشدد کو مزید بدتر بنا دیا ہے، جیسے آن لائن تعاقب، دباؤ ڈالنا، اور تصاویر کا غلط استعمال۔ یہ بھی پایا گیا کہ یہ عوامل حقیقی دنیا میں بھی تشدد میں اضافے کا سبب بنتے ہیں اور بعض صورتوں میں خواتین کے قتل تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
یو این ویمن کی پالیسی ڈویژن کی ڈائریکٹر سارہ ہینڈرکس نے کہا، ”فیما سائیڈ کبھی تنہا واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ اکثر ایسے سلسلے کی کڑی ہوتی ہے جو کنٹرول کرنے والے رویّوں، دھمکیوں اور ہراسانی سے شروع ہوتا ہے، جن میں آن لائن ہراسانی بھی شامل ہے۔
افریقہ میں خواتین کے قتل کی سب سے زیادہ شرح
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں خواتین اور لڑکیوں کو انتہائی درجے کے تشدد کا سامنا ہے۔
علاقائی اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں خواتین کے قتل (فیما سائیڈ) کی سب سے زیادہ شرح افریقہ میں ریکارڈ کی گئی، جہاں ہر ایک لاکھ خواتین و لڑکیوں میں سے 3 کو قتل کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ میں 1.5، اوشیانا میں 1.4، ایشیا میں 0.7 جبکہ یورپ میں یہ شرح سب سے کم یعنی 0.5 رہی۔
رپورٹ میں ‘فوری اور مربوط روک تھام‘ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چھ اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں مضبوط قانونی ڈھانچے کی تشکیل، متاثرین کو ترجیح دینے والی خدمات اور اسلحے پر پابندیوں کا نفاذ شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں