دنیا میں ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد کی خودکشی کرتے ہیں، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)

دنیا میں ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد کی خودکشی
گزشتہ تین دہائیوں کے مقابلے میں عالمی سطح پر خودکشیوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن ماہرین کی رائے میں یہ تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے۔
ایک جائزے کے مطابق سن 1990 سے 2021ء تک دنیا کے 102 ممالک میں خودکشی کی شرح اوسطاً 30 فیصد کم ہوئی۔ امیر ممالک میں خودکشی کی شرح میں کمی اس سے بھی کچھ زیادہ رہی، جیسا کہ ایک تحقیقاتی ٹیم نے جریدے ”نیچر مینٹل ہیلتھ‘‘ میں لکھا ہے۔
یہ اعداد و شمار عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈیٹا بیس کی بنیاد پر پانچ براعظموں کے ممالک سے حاصل کیے گئے۔ سیئول کی کیونگ ہی یونیورسٹی کالج آف میڈیسن کے سون کِم اور سیلن وو کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

دنیا کے 102 ممالک میں خودکشی کی شرح اوسطاً 29.9 فیصد کم ہوئی، جو 1990 میں فی ایک لاکھ افراد، 10.33 کیسز سے کم ہو کر 2021 میں 7.24 کیسز تک رہ گئی۔
اس تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے یورپ میں خودکشیوں کی شرح میں کمی کی وجوہات میں ذمہ دارانہ میڈیا رپورٹنگ اور نوجوانوں میں سماجی و جذباتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں واقع شماریاتی دفتر کے ہولگر لیئرہوف نے، جو اس مطالعے میں شامل نہیں تھے، بتایا کہ نفسیاتی اور سماجی نگہداشت تک بہتر رسائی، ذہنی بیماریوں سے متعلق بدنامی کے خاتمے اور خودکشی کی روک تھام کے پروگراموں نے کئی علاقوں میں مثبت اثرات دکھائے ہیں۔


امیر ممالک میں خودکشی کی شرح میں کمی
جائزے میں شامل 54 ممالک کو زیادہ آمدنی والے ممالک قرار دیا گیا۔ ان ممالک میں 1990ء میں خودکشی کی شرح نسبتاً زیادہ تھی، یعنی فی ایک لاکھ افراد، 12.68 کیسز لیکن اس کے بعد اس میں نمایاں کمی آئی۔
کورونا کے سال 2021ء میں صرف 8.61 کیسز رجسٹر ہوئے یعنی 32.1 فیصد کمی۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اسی عرصے میں یہ شرح 7.88 سے کم ہو کر 5.73 تک پہنچ گئی، جو 27.3 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

محققین نے وضاحت کی کہ مختلف ممالک میں خودکشی کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے، جو اعداد و شمار کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی طرح خودکشی کی رپورٹنگ کے بارے میں معاشرتی رویے بھی اسے متاثر کرتے ہیں۔ مطالعے کے مطابق خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بدنامی، مذہبی پابندیاں اور جرمانے کی وجہ سے اعداد و شمار کم رپورٹ ہو سکتے ہیں۔

سن 2050 تک کے لیے پیش گوئی

تحقیقاتی ٹیم نے 102 ممالک کے لیے مستقبل میں خودکشیوں کی شرح کے بارے میں بھی پیش گوئی کی ہے۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح آہستہ آہستہ کم ہو کر 2050ء تک فی ایک لاکھ افراد، 6.49 کیسز تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم محققین نے اپنے مطالعے میں واضح کیا کہ بعض ممالک اور مخصوص گروہوں کے اندر خودکشی سے اموات کا امکان بدستور موجود رہے گا۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکشی کی شرح کو کم کرنے کے لیے زیادہ مؤثر حکمت عملی اور اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ یہ ایک عالمی اجتماعی کوشش ہونی چاہیے۔

ماہرین اس مطالعے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

شماریات دان لیئرہوف نے اس جائزے کو ”مستحکم‘‘ قرار دیا اور پیش گوئی کے طریقہ کار کو تسلیم شدہ بتایا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسی طویل المدتی پیش گوئیاں فطری طور پر غیر یقینی ہوتی ہیں کیونکہ ان میں غیر متوقع پیش رفت، جیسے کہ معاشی بحران، وبائیں یا معاشرتی افراتفری کو شامل نہیں کیا جاتا۔
فرائی برگ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائیکالوجی اینڈ میڈیکل سوشیالوجی کے لاسے زانڈر کے مطابق بیان کردہ رجحانات دیگر تحقیقات کے نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں۔

لاسے زانڈر نے زور دیا کہ اس طویل المدتی مثبت پیش رفت کے باوجود، ”خودکشی کے اعداد و شمار اب بھی بہت زیادہ ہیں۔‘‘

انہوں نے جرمنی میں ”خودکشی روک تھام پروگرام‘‘ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال سات لاکھ سے زیادہ افراد خودکشی سے مرتے ہیں۔

جرمنی میں صرف 2023ء میں 10 ہزار سے زیادہ افراد نے خودکشی کی، جو ٹریفک حادثات، ایڈز، غیر قانونی منشیات اور تشدد سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔

زیادہ تر خودکشی کی کوششیں عارضی یا قابل علاج بحرانوں کے دوران ہوتی ہیں۔ زانڈر نے کہا، ”اگر آپ خودکشی کے خیالات سے دوچار ہیں، تو آپ کو پیشہ ورانہ مدد مل سکتی ہے۔‘‘

یہ مدد مقامی ایمرجنسی کلینکس، عمومی معالجین یا ٹیلی فون ہیلپ لائن کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ بچوں، نوجوانوں، یا خاندانی پریشانیوں کا سامنا کرنے والے والدین کے لیے بھی خاص نمبر موجود ہیں۔
زانڈر نے مزید کہا کہ اگر آپ کسی شخص کے بارے میں فکر مند ہیں، تو ”اس سے براہ راست خودکشی کے خیالات کے بارے میں پوچھنا اور پیشہ ورانہ مدد لینے میں اس کی مدد کرنا مفید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں