“سال کے گیارہ مہینے ہوش میں، اور ربیع الاول عشقِ رسول ﷺ میں” تحریر: واجد قریشیؔ

“سال کے گیارہ مہینے ہوش میں، اور ربیع الاول عشقِ رسول ﷺ میں”

تحریر: واجد قریشیؔ

زندگی دراصل ایک سفر ہے…
کبھی خوابوں کے رنگین مناظر آنکھوں کو بہلاتے ہیں، تو کبھی حقیقتوں کی گرد چہرے پر چھا کر دل کی راہوں کو دھندلا کر دیتی ہے۔ گیارہ مہینے انسان زمانے کی الجھنوں، روزگار کی مشقتوں اور دنیاوی کشمکش میں سفر کرتا ہے، اپنی عقل کے چراغ کے سہارے راہیں تلاش کرتا ہے، گھر کے چراغ کو روشن رکھتا ہے، بچوں کے دلوں میں محبت کے بیج بوتا ہے، اور آنے والے کل کے خوابوں کے لیے پروانے کی طرح قدم بڑھاتا ہے۔ مگر یہ سب سفر صرف جسم و عقل کے لیے ہے؛ حقیقتِ زندگی تو اس وقت نمودار ہوتی ہے جب دل کی زمین عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور ہو اور روح کی وادی پروانے کی طرح روشنی کے گرد گھومنے لگے۔

مگر جب ربیع الاول کا ہلال اپنی پہلی کرن کے ساتھ افق پر جھلکتا ہے تو گویا کائنات کی ہر شے ایک نئی روح پا لیتی ہے۔ دل پر ایک انوکھی مستی طاری ہو جاتی ہے، اور روح پر محبت کی بارش برستی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہواؤں میں خوشبو گھل گئی ہو، فضاؤں میں نعتوں کے نغمے سراب کی طرح گونج رہے ہوں، اور ہر سمت عشق و سرور کی لہریں موجزن ہوں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس نے ظلمتوں کو روشنی میں بدل دیا، جہالت کے اندھیروں کو مٹا دیا، اور انسانیت کو اُس محبوبِ خدا ﷺ سے متعارف کروایا جس کی محبت ایمان کی اصل جان ہے۔ یہ لمحہ دلوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور کر دیتا ہے اور روح کو فنا ہونے کے قریب لے جاتا ہے تاکہ ہر سانس صرف حضور ﷺ کی یاد میں گونجے۔

ربیع الاول کی دیوانگی اور جنون دراصل وہ عشق ہے جسے زبان کے الفاظ سمیٹنے سے عاجز ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جو دل کے اندھیروں میں حضور ﷺ کی یاد کا چراغ جلا دیتی ہے اور روح کو روشنی کے بے کنار دریا میں غوطہ زن کر دیتی ہے۔ گیارہ مہینے ہم عقل و شعور کے سہارے دنیا کے معاملات سنبھالتے ہیں، لیکن یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل زندگی صرف عقل کی نہیں، بلکہ دل کی ہے—اور دل کی زندگی تو وہی ہے جو مصطفیٰ کریم ﷺ کی محبت کے نور میں سانس لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خودی بھول کر پروانے کی طرح عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے گرد گھومتا ہے، اور ہر دھڑکن میں محبت کی روشنی محسوس کرتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کیوں اتنا ضروری ہے؟
اس لیے کہ یہی عشق انسان کو نفس کی قید سے آزاد کر کے ربِّ کریم کے قرب تک لے جاتا ہے۔ یہ عشق پروانے کی طرح ہے جو اپنی ہستی جلا کر نورِ مصطفیٰ ﷺ کے گرد گردش کرتا ہے۔ یہی عشق ہے جو زندگی کے طوفانوں میں کشتی بن کر ہمیں کنارے تک پہنچاتا ہے۔ دنیا کے دکھ جب دل کو گھیر لیتے ہیں تو یہ عشق بارش کی طرح برستا ہے اور جلتے دل کو ٹھنڈک دیتا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو گناہوں کی رات کو سحر میں بدل دیتی ہے، اور بندے کو ظلمت سے نکال کر نور کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔

ربیع الاول میں چراغاں کرنا، نعتوں کی محفلیں سجانا اور درود و سلام کی صدائیں بلند کرنا صرف رسمیں نہیں بلکہ یہ دل کی پروازیں ہیں جو نورِ مصطفیٰ ﷺ کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ خوشبوؤں کا قافلہ ہے جو دل کی وادی کو مہکا دیتا ہے۔ یہ محفلیں دراصل اس اعلانِ محبت کا دوسرا نام ہیں جو ہر مومن کے دل میں اتر کر ایمان کو کامل کرتی ہیں۔ یہ وہ دیوانگی ہے جس کے بغیر ایمان ایک بجھا ہوا چراغ ہے۔ جب ربیع الاول آتا ہے تو یہ چراغ عشق کے تیل سے بھرتا ہے اور محبت کے نور میں دل کی مستی پیدا ہوتی ہے۔

یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جہاں عقل ہمیں دنیا کی کامیابیاں عطا کرتی ہے، وہاں عشقِ رسول ﷺ ہماری روح کو آخرت کی روشنی سے نوازتا ہے۔ گیارہ مہینے ہوش ہمیں محض زندہ رکھتے ہیں، مگر ربیع الاول کا جنون ہماری زندگی کو مقصد عطا کرتا ہے۔ یہ وہ مستی ہے جو دل کے ہر کونے میں روشنی بکھیر دیتی ہے، یہ وہ سرور ہے جو انسان کو صرف جینے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ جینے کی حقیقت سکھاتا ہے۔ اس جنون میں ہر سانس مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو لیے ہوا، ہر لمحہ دل کے باغ میں عشق کی بارش، اور ہر قدم روح کی روشنی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے۔

پس اے اہلِ ایمان! ربیع الاول کو محض چراغاں اور میلاد کی محفلوں تک محدود نہ رکھیں۔ اس مہینے کو اپنی دل کی وادی میں ایسا نقش چھوڑ دیں جو کبھی مٹ نہ سکے، ایسا اثر چھوڑیں جو روح کی تہہ تک اتر جائے۔ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو حضور ﷺ کی سیرت کے آئینے میں جھلکنے دیں، اپنی عادات کو ان کے اخلاق کی مہک سے معطر کریں، اور اپنے گھروں کو ان کے پیغام کی نورانی روشنی سے منور کریں۔ یہ مہینہ دل کے صحرا میں محبت کا چشمہ بہاتا ہے، ایمان کی زمین کو سبز کرتا ہے، اور ہر پروانے کو نورِ مصطفیٰ ﷺ کے گرد چکر لگانے کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جب دل کا ہر کونا عشق کی روشنی سے جگمگا اٹھتا ہے اور روح کی ہر دھڑکن سرور کی صدا بن جاتی ہے۔

سال کے گیارہ مہینے ہوش میں گزارو، مگر جب ربیع الاول آئے تو عقل کو دل کے سپرد کر دو، اور دل کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے حوالے کر دو۔ یہی وہ دیوانگی ہے جو انسان کو کمال تک پہنچاتی ہے، یہی وہ جنون ہے جو دل کی ہر دھڑکن کو زندگی کے حقیقی نور سے منور کر دیتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان اپنی خودی بھول کر پروانے کی طرح عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے گرد گھومتا ہے، اور ہر سانس میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو محسوس کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں