نیویارک(ڈیسک رپورٹ) جان ہومز امریکی فحش فلم انڈسٹری کا معروف نام ہے جسے فحش فلم انڈسٹری کا ’ایلوس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں دو ہزار 274فحش فلموں میں کام کیا اور 14ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کیا۔ چالیس سال قبل آج ہی کے دن فحش فلموں کے اس اداکارپر چار لوگوں کو بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتارنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس سے بعد ازاں وہ بری ہو ہو گیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق جان ہومز 8اگست 1944ء کو امریکی ریاست اوہائیو میں پیدا ہوا تھا اور اس کی موت 13مارچ 1988ء کو کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ہوئی۔
دسمبر 1981ء میں لاس اینجلس کے علاقے ونڈرلینڈ کے ایک اپارٹمنٹ میں ولیم ڈیوریل، رون لاؤنیئس، جوئے ملر اور باربرا رچرڈسن کو بے دردی سے سر میں ہتھوڑے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ رون لاؤنیئس کی اہلیہ سوزان کا سر بھی قاتلوں نے ہتھوڑے سے کچل ڈالا تاہم وہ خوش قسمتی سے بچ گئی تھیں۔ یہ تمام لوگ ایک گینگ کے اراکین تھے جنہوں نے جان ہومز کے دوست اور ہائی فلائنگ نائٹ کلب کے مالک ایڈی ناش کے گھر ڈکیتی کی تھی اور جان ہومز اس ڈکیتی میں اس گینگ کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ یہی وہ تعلق تھا جس کی وجہ سے ایڈی ناش کے ساتھ ساتھ جان ہومز کو بھی ان لوگوں کے قتل کی واردات میں شامل تفتیش کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں عدالت نے دونوں کو بری کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق جان ہومز منشیات کی لت میں بھی مبتلا تھا اور کوکین کی زیادتی نے اس کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ صحت کے ساتھ ساتھ اس کی مالی حالت بھی بہت بگڑ گئی تھی اور وہ اس گینگ کا مقروض ہو گیا۔ جب وہ قرض ادا نہ کر سکا تو گینگ نے اسے اس واردات میں ساتھ دینے کو کہا۔ اس کویہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ ایڈی کے گھر جا کر اس کے ساتھ ملاقات کرے گا اور گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دے گا تاکہ گینگ کے لوگ بعد ازاں اندر داخل ہو کر واردات کر سکیں۔ اس واردات میں گینگ کے غنڈوں نے گولی مار کر ایڈی کے سکیورٹی گارڈ کو زخمی بھی کر دیا تھا۔
اس واردات کے 2دن بعد گینگ کے چار ملزمان کے قتل کی مذکورہ واردات ہوئی۔ جان ہومز اپنے شرمناک پیشے کے سبب ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہو گیا تھااور اسی بیماری کی وجہ سے لاحق ہونے والی پیچیدگیاں اس کی موت کا سبب بنیں۔ورنڈرلینڈ کے اپارٹمنٹ میں ہونے والی چار لوگوں کے قتل کی اس واردات کا معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا کہ انہیں کس نے قتل کیا تھا۔